صدر زرداری کا انڈونیشیا، ملائیشیا اور تھائی لینڈ میں سیلاب سے تباہی پر اظہار افسوس
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) صدر زرداری نے جنوب مشرقی ایشیا میں سیلاب سے تباہی، جانی نقصان اور لاکھوں افراد کی بے دخلی پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اتوار کے روز ایوان صدر کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے کہا کہ اس سانحے میں سینکڑوں قیمتی جانوں کا ضیاع اور متعدد افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات پاکستان کے عوام کے لیے انتہائی رنج کا باعث ہیں۔ انہوں نے انڈونیشیا، ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی حکومتوں اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت کی۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان خود بھی موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی آفات کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے وہ ایسے سانحات کے درد اور بے یقینی کو بخوبی سمجھتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔