امریکی انتظامیہ کی جانب سے امیگریشن پالیسی میں متعدد تبدیلیوں کے درمیان، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک میں پناہ کے عمل کو ‘بہت طویل عرصے’ تک مؤخر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ بعض ممالک سے آنے والے افراد جن میں صومالیہ و دیگر شامل ہیں امریکا میں نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے یہ بات وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے واقعے میں ملوث افغان شہری کا حوالہ دیتے ہوئے کہی۔

یہ بھی پڑھیے: صدر ٹرمپ کا امیگریشن کا عمل مستقل روکنے کا اعلان اور ’ریورس مائیگریشن‘ زور

ٹرمپ نے کہا، ہم ان لوگوں کو نہیں چاہتے۔ ہمارے پاس پہلے ہی بہت مسائل ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر اچھے نہیں ہوتے اور انہیں ہمارے ملک میں نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض ممالک خصوصاً صومالیہ میں نہ حکومت ہے نہ پولیس، اور وہاں کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرتے رہتے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ یہ پابندی 19 سے زائد ممالک پر لاگو ہوسکتی ہے، یہ اچھے ممالک نہیں ہیں، جرائم سے بھرے ہوئے ہیں۔ ہمیں ان کے لوگوں کی یہاں ضرورت نہیں جو ہمیں آکر بتائیں کہ ملک کیسے چلانا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: غیرقانونی تارکین وطن امریکا کیلیے خطرہ بنتے جارہے ہیں، ٹرمپ

ٹرمپ نے واشنگٹن میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اہلکار اسپیشلسٹ سارہ بیکسٹرم کی ہلاکت افسوسناک ہے جبکہ اسٹاف سارجنٹ اینڈریو وولف شدید زخمی حالت میں زندگی موت کی کشمکش میں ہیں۔ انہوں نے دونوں کو وائٹ ہاؤس میں اعزاز دینے کا بھی اعلان کیا۔

واضح رہے کہ 29 سالہ رحمان اللہ لکانوال، جس پر نیشنل گارڈ اہلکار پر فائرنگ اور قتل کا الزام ہے، 2021 میں افغانستان سے بائیڈن کے ‘آپریشن ایلائز ویلکم’ کے تحت امریکا آیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغان شہری امیگریشن پناہ گزین ٹرمپ ہجرت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغان شہری امیگریشن پناہ گزین

پڑھیں:

امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ

بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔

ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔

تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی