Express News:
2026-07-24@05:09:38 GMT

انڈونیشیا میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے اموات 303 ہوگئیں

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

انڈونیشیا کے جزیرہ سماترا میں شدید بارشوں، تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 303 ہوگئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تاحال 174 افراد لاپتا ہیں جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

درجنوں دیہات لینڈ سائیڈنگ کی زد میں آکر صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں جب کہ ملبے تلے دبی لاشیں ملنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

آج بھی امدادی کاموں کے دوران ملبے تلے دبی 31 لاشیں ملی ہے جس سے ہلاکتوں کی تعداد 300 سے تجاوز کرگئیں۔

امدادی کاموں میں ریسکیو ادارے اور فائر بریگیڈ کے عملے کے علاوہ 3 ہزار 500 زائد پولیس اہلکار بھی مصروف ہیں۔

شدید تباہی کے باعث شمالی سماترا کے کئی علاقے زمینی راستوں سے کٹ چکے ہیں، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہے۔

امدادی سامان کی ترسیل کے لیے فضائی مدد لی جا رہی ہے جبکہ بھاری مشینری کی کمی سے ریسکیو کام بری طرح متاثر ہوا ہے۔

موسلادھار بارشوں کے باعث دریا ابل پڑے اور سیلاب کناروں کوے توڑتا ہوا بھاری ملبے کے ساتھ رہائشی علاقوں میں داخل ہوا جس نے کئی پہاڑی دیہات کو لپیٹ میں لے لیا۔

ویسٹ سماترا کے اگام ضلع میں تین دیہاتوں میں تقریباً 80 لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور بھاری مشینری نہ ہونے کے سبب زندہ بچ جانے والوں تک رسائی انتہائی مشکل ہوچکی ہے۔

سب سے زیادہ متاثر آچے کا علاقہ ہوا ہے جہاں صورتحال انتہائی سنگین ہے اور بھاری مشینری کی عدم دستیابی کے باعث پولیس، فوج اور مقامی لوگ ہاتھوں، بیلچوں اور اوزاروں سے ملبہ ہٹا رہے ہیں۔

گورنر موزاکر مناف نے 11 دسمبر تک ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

خیال رہے کہ انڈونیشیا، سری لنکا اور ملائیشیا میں تباہی پھیلانے والا طوفان اب تھم چکا ہے اور شدید بارشوں کے بعد لینڈ سلائیڈنگ واقعات رونما ہو رہے ہیں۔

جس میں سب سے زیادہ تباہی اندونیشیا میں ہوئی جہاں ہلاکتیں 303 ہیں جب کہ سری لنکا میں 120 سے زائد تھائی لینڈ اور ملائیشیا میں بھی 50 سے زائد ہیں۔

 

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے باعث

پڑھیں:

افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم

افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA

— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026

اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا

طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔

آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان سیلاب نورستان

متعلقہ مضامین

  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب