Express News:
2026-06-02@23:30:07 GMT

انڈونیشیا میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے اموات 303 ہوگئیں

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

انڈونیشیا کے جزیرہ سماترا میں شدید بارشوں، تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 303 ہوگئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تاحال 174 افراد لاپتا ہیں جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

درجنوں دیہات لینڈ سائیڈنگ کی زد میں آکر صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں جب کہ ملبے تلے دبی لاشیں ملنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

آج بھی امدادی کاموں کے دوران ملبے تلے دبی 31 لاشیں ملی ہے جس سے ہلاکتوں کی تعداد 300 سے تجاوز کرگئیں۔

امدادی کاموں میں ریسکیو ادارے اور فائر بریگیڈ کے عملے کے علاوہ 3 ہزار 500 زائد پولیس اہلکار بھی مصروف ہیں۔

شدید تباہی کے باعث شمالی سماترا کے کئی علاقے زمینی راستوں سے کٹ چکے ہیں، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہے۔

امدادی سامان کی ترسیل کے لیے فضائی مدد لی جا رہی ہے جبکہ بھاری مشینری کی کمی سے ریسکیو کام بری طرح متاثر ہوا ہے۔

موسلادھار بارشوں کے باعث دریا ابل پڑے اور سیلاب کناروں کوے توڑتا ہوا بھاری ملبے کے ساتھ رہائشی علاقوں میں داخل ہوا جس نے کئی پہاڑی دیہات کو لپیٹ میں لے لیا۔

ویسٹ سماترا کے اگام ضلع میں تین دیہاتوں میں تقریباً 80 لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور بھاری مشینری نہ ہونے کے سبب زندہ بچ جانے والوں تک رسائی انتہائی مشکل ہوچکی ہے۔

سب سے زیادہ متاثر آچے کا علاقہ ہوا ہے جہاں صورتحال انتہائی سنگین ہے اور بھاری مشینری کی عدم دستیابی کے باعث پولیس، فوج اور مقامی لوگ ہاتھوں، بیلچوں اور اوزاروں سے ملبہ ہٹا رہے ہیں۔

گورنر موزاکر مناف نے 11 دسمبر تک ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

خیال رہے کہ انڈونیشیا، سری لنکا اور ملائیشیا میں تباہی پھیلانے والا طوفان اب تھم چکا ہے اور شدید بارشوں کے بعد لینڈ سلائیڈنگ واقعات رونما ہو رہے ہیں۔

جس میں سب سے زیادہ تباہی اندونیشیا میں ہوئی جہاں ہلاکتیں 303 ہیں جب کہ سری لنکا میں 120 سے زائد تھائی لینڈ اور ملائیشیا میں بھی 50 سے زائد ہیں۔

 

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے باعث

پڑھیں:

گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ منگل کو گورنر آفس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں ڈی آئی خان کے دینار ہسپتال کے لیے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر گورنر نے کہا کہ جنوبی اضلاع کے کینسر کے مریضوں کو شدید مشکلات کاسامنا ہے، وفاق طبی آلات کی فراہمی میں تعاون کرے جس پر وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے دینار ہسپتال کے لیے ضروری مشینری اور طبی آلات کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔

گورنر نے کہا کہ وفاق صحت کے شعبے میں خیبرپختونخوا کے پسماندہ اور متاثرہ علاقوں پر خصوصی توجہ دے، دینار ہسپتال میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی سے جنوبی اضلاع کے مریضوں کو ریلیف ملے گا۔ وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں صحت کی سہولیات کی بہتری کے لیے ہرممکن تعاون کریں گے۔ ملاقات میں وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون مزید بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کریم کنڈی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد