ریاض احمدچودھری
بھارت دنیا بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ہر دوسرے دن آپ کامیاب آپریشنز کی خبریں سنتے ہیں، ہماری مسلح افواج نے دہشت گردوں کے خلاف بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں۔سیکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسماعیل خان میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کی موجودگی کی خفیہ اطلاعات پر آپریشن میں 22خوارج جہنم واصل کئے۔ علاقے میں مزید خارجیوں کے خاتمے کیلئے سرچ آپریشن جاری ہے،ہلاک دہشت گرد بھارت کے حمایت یافتہ نیٹ ورک سے تعلق رکھتے تھے۔ سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے بڑا دہشت گرد منصوبہ ناکام ہوا۔انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ”عزمِ استحکام” کے تحت کیا گیا۔ پاکستان سے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔اسی طرح خوارج کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات پر 21 نومبر کو بنوں ضلع میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جس میں بھارت نواز فتنہ الخوارج کے آٹھ دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ ہلاک شدہ دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔ بھارتی سرپرستی یافتہ یہ خوارج سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بے گناہ شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے۔
یہ آپریشن قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان مضبوط تعاون اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر بڑھتی ہوئی مؤثر کارروائیوں کا ثبوت ہے، جن کا مقصد خوارج کی نقل و حرکت کو محدود کرنا، ان کے سہولت کار نیٹ ورکس کو توڑنا اور دوبارہ منظم ہونے کی صلاحیت ختم کرنا ہے۔ ان کارروائیوں سے قابلِ پیمائش کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں، اور امن و استحکام کے لیے کوششیں مزید تیز کی جا رہی ہیں۔ علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گرد کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔پاک فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ بھارتی فوجی افسران، افغان باشندے پاکستان میں دہشتگردی ملوث ہیں۔ پا کستان میں کسی کو بھی پاکستان میں کسی بھی جیش یا مسلح جتھوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے ،جہاد کا اعلان صرف ریاست کرے گی۔ بھارتی فوجی افسران کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی پیش کیے۔
امریکا نے کالعدم مجید بریگیڈ کو عالمی دہشت گرد تنظیم قراردیا، بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے متعدد ہلاک دہشتگرد نام نہاد مسنگ پرسنز کی فہرست میں بھی شامل تھے۔ بھارت میں پرتشدد واقعات بھارتی حکومت کی بڑھتی انتہاء پسند پالیسیوں کا نتیجہ ہیں، بھارت اپنے اندرونی مسائل کو بیرونی جبکہ بیرونی مسائل کو اندرونی مسئلہ بنا کر پیش کرتا ہے۔بھارت ریاستی سرپرستی میں پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے، بھارتی فوج کے حاضر سروس افسران کے پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے مستند شواہد منظر عام پرآچکے ہیں، پاکستان بھارتی دہشتگردی کے ثبوت اقوام عالم کے سامنے متعدد مرتبہ پیش کر چکا ہے۔
پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، امریکی انخلا ء کے بعد افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی ہتھیار دہشتگردی میں استعمال ہو رہے ہیں، امریکا بھی اس اسلحے کے دہشتگردانہ کارروائیوں میں استعمال پرتشویش کا اظہار کر چکا ہے۔پہلگام فالس فلیگ کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے لیے بھارتی سہولت کاری کے مستند شواہد سامنے آگئے ہیں۔پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے بھارتی فوج اور ایجنسیاں پوری طرح متحرک ہیں، جہلم سے گرفتار دہشتگرد مجید کے موبائل فون اور ڈرون فرانزک کے بعد ناقابل تردید شواہد سامنے آئے۔ دہشتگرد مجید بھارتی فوج کے آفیسرز اور ہینڈلرز کے ساتھ رابطے میں تھا، دہشتگرد آئی ای ڈیز نصب کرنے کے بدلے بھارتی فوج سے پیسہ وصول کر رہا تھا۔دہشتگرد مجید اور بھارتی آرمی کے افسران کے درمیان واٹس ایپ گفتگو سے ہوشربا انکشافات بھی سامنے آئے جس میں چار بھارتی آرمی افسران کی نشاندہی ہوتی ہے۔ان بھارتی فوجی افسران میں میجر سندیپ ورما، صوبیدار سکھوندر، حوالدار امیت اور ایک سپاہی شامل ہے۔ اس گفتگو میں بھارتی ہینڈلر دہشتگرد مجید سے کہہ رہا ہے کہ پاکستان میں شہریوں کی لاشیں چاہئیں۔
بھارتی ہینڈلرز دہشتگرد مجید کو بم بنانے کے طریقے پر مشتمل ویڈیوز بھیجتے ہیں۔دہشتگرد مجید سے بات کرتے ہوئے بھارتی میجر سندیپ نے کہا کہ ”لاہور سے لیکر بلوچستان تک اس کا نیٹ ورک موجود ہے، ہم نہ ہی بچے ہیں اور نہ ہی پاکستان میں یہ ہماری پہلی دہشتگردی کی کارروائی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق دہشتگرد مجید اور بھارتی فوجی ہینڈلرز کے درمیان یہ آڈیو گفتگو ثبوت ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی پھیلاتا ہے، بھارت دہشتگردی پھیلانے کیلئے دہشت گردوں کو بھاری فنڈنگ میں بھی فراہم کرتا ہے،بلوچستان اور دیگر صوبوں میں دہشتگردوں کو کارروائیوں کے لیے تربیت تک بھارت ایجنسیاں دیتی ہیں، ان شواہد کے بعد یہ ضروری ہے کہ عالمی سطح پر بھارت کا نام فیٹف میں شامل کیا جائے۔
بھارت کی خفیہ ایجنسی ‘را ‘نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اپنی پراکسیز کو سرگرم کر دیا ہے۔ بھارتی را نے گوادر،کوئٹہ اور خضدار میں دہشت گردی کا منصوبہ بنایا۔ را نے بی ایل اے،فتنہ الخوارج اورغیرقانونی افغانوں کو ان شہروں میں دہشت گردی کی ہدایات کیں۔ انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے را نے کارروائیوں کے لیے دہشت گردوں کو افغانستان سے بھی متعلقہ علاقوں میں بھیجوا دیا۔ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق چند خود کش بمباروں کو متعلقہ علاقوں کی ریکی کرائی گئی، خودکش بمباردہشت گردی کی کارروائی میں گاڑی یا موٹرسائیکل کا استعمال کر سکتے ہیں۔ بھارتی سرپرستی میں دہشت گردی کے مذموم منصوبے ناکام بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہیں۔ بھارت کی بلوچستان میں دہشت گردی کے واضح ثبوت پہلے ہی منظر عام پر آچکے ہیں، بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کروا کر پاکستان میں بد امنی پھیلانا چاہتا ہے۔
٭٭٭
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: قانون نافذ کرنے والے پاکستان میں دہشت میں دہشت گردی کے سیکیورٹی فورسز دہشتگرد مجید بھارتی فوجی انٹیلی جنس بھارتی فوج میں بھارت میں ملوث گردی کی کے بعد کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔