Islam Times:
2026-06-02@23:30:11 GMT

بیس سالہ منصوبے کا انجام

اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT

بیس سالہ منصوبے کا انجام

اسلام ٹائمز: 12 روزہ جنگ نے ثابت کر دیا کہ ایران کا مقابلہ کرنے کا اسرائیل کا 20 سالہ منصوبہ ناکام ہوگیا تھا اور تل ابیب کو مزید نقصان اور اقتصادی تباہی سے بچنے کے لیے جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ یہ بیانیہ جو خود اسرائیلیوں اور ان کے میڈیا کے ذرائع کے اعترافات پر مبنی ہے، شکست و ریخت کی اصل حد کی واضح تصویر پیش کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمام تر دعوؤں اور افواہوں کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران کے دباؤ کے نتیجے میں صیہونی حکومت تقریباً مفلوج ہوچکی تھی۔ تحریر: پروفیسر تنویر حیدر نقوی

اسرائیل اور ایران کے درمیان لڑی جانے والی اپنی نوعیت کی بارہ روزہ جنگ، اگرچہ ایک محدود جنگ تھی لیکن اسرائیل ابھی تک اس جنگ میں پانے والی شکست کے زخم چاٹ رہا ہے۔ اسرائیلی حکومت کے اپنے سرکاری اعداد و شمار اور بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ صیہونی حکومت کا ایران پر حملہ اس حکومت کی جعل سازی کی تاریخ کا بڑا شہکار تھا۔ رہبر معظم سید علی خامنہ ای کے مطابق "یہ جارحیت اسرائیل کے ایران کے خلاف 20 سالہ منصوبے کا نتیجہ تھی، جو مکمل طور پر ناکامی پر ختم ہوئی۔" مقبوضہ علاقوں میں میڈیا کی شدید سنسرشپ کی وجہ سے اس جنگ میں اسرائیلی نقصانات کے اصل اعدادوشمار کبھی بھی مکمل طور پر شائع نہیں ہوسکے ہیں، لیکن اسرائیلی حکام اور میڈیا کے اعترافات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کو بہت زیادہ معاشی، فوجی اور سماجی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ اعداد و شمار بحران کی حقیقی جہتوں کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہیں، البتہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تل ابیب نے 12 دن کے بعد جنگ بندی پر رضامندی کیوں ظاہر کی۔

وقت گزرنے کے ساتھ صہیونی حکام اس جنگ میں اپنی ناکامی کا اعتراف خود کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اس ضمن میں ایک اہم ترین بیان "میجر جنرل جیورا ایلینڈ" کی طرف سے آیا ہے، جو اسرائیلی سلامتی کونسل کے سابق چیئرمین ہیں۔ ایک سرکاری میڈیا کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ "اسرائیل کے بہترین مفادات جنگ کے خاتمے اور جنگ بندی کو قبول کرنے میں ہی تھے۔" یہ الفاظ براہ راست اسٹریٹجک اہداف کے حصول میں ناکامی کے اعتراف کی عکاسی کرتے ہیں۔ آئلینڈ کے مطابق "جنگ جاری رکھنے کے اخراجات، بشمول معاشی نقصانات اور بین الاقوامی دباؤ، ممکنہ فوائد سے کہیں زیادہ تھے۔" اسرائیل کے سابق وزیراعظم "ایہود اولمرٹ" نے بھی 12 روزہ جنگ کے بارے میں کہا "ایرانی میزائلوں نے اسرائیلی شہروں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔ ان کے مطابق ایران کا اسرائیل کے ساتھ پرامن بقائے باہمی قائم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔" یہ کھلا اعتراف ظاہر کرتا ہے کہ ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے اسرائیلی حکومت کا 20 سالہ منصوبہ ناکام رہا ہے۔

حکومت کے سرکاری تجزیہ کاروں نے بھی اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ایران کو شکست دینے میں ناکام رہے اور ہم مستقبل میں اس کی قیمت ادا کریں گے۔" چینل 12 کے رپورٹر نے اعلان کیا کہ "اسرائیل اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ ایران کو شکست دینے سے قاصر رہا۔" "یدیعوت احرونوت" کے عسکری تجزیہ کار "یوسی یہوشوا" اور اسرائیل کے چینل 12 ٹیلی ویژن نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ایران نے ابھی تک طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار یا بھاری میزائل استعمال نہیں کیے ہیں جبکہ "معاریو اخبار" نے تسلیم کیا کہ ”ایران جنگ کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا ہے۔“ اس جنگ میں مالی اور معاشی نقصانات کے حوالے بھی بعض اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ اسرائیلی ٹیکس ایڈمنسٹریشن کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ ​​کے آغاز سے اب تک اسرائیل کے نقصانات کی تعداد 41,651 ہے۔ عمارتوں کو نقصان پہنچنے سے متعلق 32,975 رپورٹس ہیں۔ 4,119 کاریں تباہ ہوئیں، سامان اور جائیداد کے نقصانات کے متعلق 44,45 فائلیں جمع کرائی گئیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہزاروں تباہ شدہ عمارتیں غیر ریکارڈ شدہ ہیں۔

"Maariv" اخبار کے معاشی تجزیہ کار "شلومو مواز" نے لکھا ہے کہ اسرائیل کے 12 روزہ فوجی آپریشن پر تقریباً 16بلین ڈالر لاگت آئی اور اتنا ہی حکومت کی جی ڈی پی کو نقصان پہنچا۔ اقتصادی سرگرمیوں میں خلل کی وجہ سے روزانہ تقریباً 1.

5 بلین ڈالر کا نقصان ہوا، جس سے ہائی ٹیک، نقل و حمل، سیاحت، ریستوراں اور مینوفیکچرنگ کے شعبے متاثر ہوئے۔ ہوائی اڈے کی بندش اور پروازوں کی منسوخی بھی معیشت پر اضافی دباؤ ڈالتی ہے۔ فوجی اور دفاعی اخراجات کے حوالے سے جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں ان کے مطابق اسرائیل کا اوسطاً فوجی خرچ جو 725 ملین ڈالر یومیہ تھا، وہ 12 دنوں میں کل 8.7 بلین ڈالر رہا۔ اس میں فضائی حملے، F-35 لڑاکا طیاروں اور مختلف گولہ بارود کا استعمال بھی شامل تھا۔ آئرن ڈوم، ایرو، اور ڈیوڈز سلنگ سمیت جدید میزائل ڈیفنس سسٹمز کو آپریٹ کرنے کی لاگت 10 ملین ڈالر سے 200 ملین ڈالر یومیہ ہے۔ ہر ایک انٹرسیپٹر میزائل کی لاگت تقریباً 5 ملین ہے اور 12 دنوں کے دوران کل دفاعی اور فوجی اخراجات کا تخمینہ 12.2 بلین ڈالر لگایا گیا ہے۔

ایرانی میزائل حملوں سے ہونے والے نقصانات کے تخمینے کے مطابق ان میزائل حملوں سے انفراسٹرکچر کو 3 بلین ڈالر کا براہ راست نقصان پہنچا۔ کلیدی اہداف میں حیفا آئل ریفائنری، ویزمین انسٹی ٹیوٹ اور تل ابیب میں فوجی عمارتیں شامل تھیں۔ اسرائیل ٹیکس اتھارٹی نے ابتدائی نقصان کا تخمینہ 1.3 بلین ڈالر لگایا ہے، لیکن توقع ہے کہ یہ 1.5 بلین ڈالر سے زیادہ ہو جائے گا، جو پچھلے ایرانی حملوں سے ہونے والے براہ راست نقصان سے دوگنا ہے۔ اس جنگ میں 18,000 سے زیادہ لوگ اپنے گھر خالی کرنے پر مجبور ہوئے۔ ہنگامی رہائش گاہوں کی لاگت کا تخمینہ 500 ملین ڈالر ہے۔ بنیادی ڈھانچے اور گھروں کی تعمیر نو میں بھی برسوں اور دسیوں ارب ڈالر لگیں گے۔ اس ناکام جنگ کے بعد حکومت کا بجٹ خسارہ بڑھ کر جی ڈی پی کا 6 فیصد ہوگیا ہے اور دفاعی اخراجات بڑھ کر 20-30 بلین شیکل ہوگئے ہیں۔ اسرائیل کے مرکزی بینک نے 2025ء کے لیے اپنی اقتصادی ترقی کی پیشن گوئی کو کم کرکے 3.5 فیصد کر دیا ہے اور جنگ کی لاگت کا تخمینہ جی ڈی پی کا 1 فیصد (تقریباً 5.9 بلین ڈالر) لگایا ہے۔

حکومت کی کریڈٹ ریٹنگ بھی متاثر ہوئی ہے اور اسٹینڈرڈ اینڈ پورز اور فچ کی طرف سے وارننگز بھی جاری کی گئی ہیں۔ اس جنگ میں امریکہ نے بھی اسرائیل کے دفاع پر تقریباً 1.2 بلین ڈالر خرچ کیے، خاص طور پر "THAAD" سسٹم کے ذریعے۔ لیکن اپنے ابتدائی اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہونے کے بعد اس نے تنازعہ کو مزید پھیلانا چھوڑ دیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل اور ایران کے درمیان یہ 12 روزہ جنگ صیہونی حکومت کی من گھڑت تاریخ کی سب سے مہنگی اور ناکام کہانیوں میں سے ایک تھی۔ سرکاری اعداد و شمار اور بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل کے اقتصادی اخراجات 12 اور 20 بلین ڈالر کے درمیان ہیں، لیکن زیادہ جامع اندازوں کے مطابق 40 بلین ڈالر بتائے جاتے ہیں۔ جنگ میں صیہونی حکومت کے اہم اخراجات کچھ اس طرح ہیں: براہ راست فوجی اخراجات: 12.2 بلین ڈالر، اقتصادی رکاوٹ اور کاروبار کی بندش کے نقصانات: 21.4 بلین ڈالر، ایرانی حملوں سے نقصان: 4.5 بلین ڈالر، انخلا اور تعمیر نو کے اخراجات: 2 بلین ڈالر۔ یہ اعداد و شمار، حتیٰ کہ حکومت کے سرکاری اعدادوشمار بھی، اسرائیل پر شدید اقتصادی، فوجی اور سماجی دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔

طویل مدتی نتائج، بشمول بجٹ خسارہ، اقتصادی ترقی میں کمی، سیاحت کو پہنچنے والے نقصان، پیشہ ور افراد کی بے دخلی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی، اس کے علاوہ ہیں۔ بالآخر، 12 روزہ جنگ نے ثابت کر دیا کہ ایران کا مقابلہ کرنے کا اسرائیل کا 20 سالہ منصوبہ ناکام ہوگیا تھا اور تل ابیب کو مزید نقصان اور اقتصادی تباہی سے بچنے کے لیے جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ یہ بیانیہ جو خود اسرائیلیوں اور ان کے میڈیا کے ذرائع کے اعترافات پر مبنی ہے، شکست و ریخت کی اصل حد کی واضح تصویر پیش کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمام تر دعوؤں اور افواہوں کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران کے دباؤ کے نتیجے میں صیہونی حکومت تقریباً مفلوج ہوچکی تھی۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: صیہونی حکومت اسرائیل کے نقصانات کے براہ راست بلین ڈالر ملین ڈالر کا تخمینہ ایران کے کہ ایران ایران کا میڈیا کے حملوں سے حکومت کے کے مطابق حکومت کی تل ابیب کی لاگت کے ساتھ کرتا ہے جنگ کے کے بعد ہے اور کے لیے

پڑھیں:

پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ

 ملک بھر میں فی تولہ سونےکی قیمت میں 4600 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ایک تولہ سونا 4600 روپے اضافے کے بعد اب 4 لاکھ 76 ہزار 362 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔اس کے علاوہ10گرام سونے کی قیمت3944 روپےبڑھ کر 4 لاکھ8 ہزار 403 روپے ہوگئی ہے۔عالمی بازار میں سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے سے 4540 ڈالر فی اونس ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار