اسرائیل کا بیت جن پر حملہ، جولانی رژیم کی مکمل معاونت سے انجام پایا، شامی مبصر
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
المعلومہ سے اپنی ایک گفتگو میں شامی تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ جنوبی شام سے جولانی رژیم کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کیلیے قومی جماعتوں کو میدان میں آنا چاہئے۔ اسلام ٹائمز۔ شامی تجزیہ کار اور سیاسی مبصر "مصطفیٰ رستم" نے "المعلومہ" نیوز ایجنسی سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ جنوبی شام کے قصبے "بیت جن" پر اسرائیل کا تازہ فوجی حملہ، جولانی رژیم سے مکمل ہم آہنگی کے بعد انجام پایا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی مسلسل جارحیت کے مقابلے میں جولانی رژیم کی خاموشی صرف غفلت یا نااہلی کی وجہ سے نہیں، بلکہ یہ جرائم اسرائیل کے ساتھ دمشق کی کسی مخفی مفاہمت کا نتیجہ ہیں۔ مصطفیٰ رستم نے زور دے کر کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ سیاسی ہم آہنگی سے بالاتر ہے اور دونوں فریقوں (شام+اسرائیل) کے درمیان ایک عملی شراکت داری میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق، یہ شراکت جنوبی شام کے بعض علاقوں میں صیہونی افواج کی آزادانہ نقل و حرکت کے لیے قانونی جواز فراہم کرنے کے مقصد سے تشکیل دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک توسیع پسندانہ منصوبے کو نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسے حقیقت بنانے کے لیے بتدریج کام کر رہا ہے۔
دوسری جانب جولانی رژیم براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس منصوبے کی عملی شریک بن چکی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو دمشق کے مضافات، اسرائیلی قبضے میں ہوں گے۔ مصطفیٰ رستم نے مزید کہا کہ جولانی رژیم ایک غیر ملکی منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا ایک آلہ ہے اور اس کا مشن، داخلی ذرائع سے شام کی سلامتی کے ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہے۔ مذکورہ رژیم کے اثر و رسوخ کا سلسلہ ملکی وحدت کو نقصان میں ڈالے گا اور اسرائیل کے لیے وسیع طور پر حالات کو سازگار کرے گا۔ آخر میں مصطفیٰ رستم نے مطالبہ کیا کہ جنوبی شام سے جولانی رژیم کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے قومی جماعتوں کو میدان میں آنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی توسیع پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ نیز جنوبی شام کو قابض صیہونی رژیم کے چنگل سے بچانے کے لئے فوری اقدامات بھی اٹھانے چاہئیں۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جولانی رژیم انہوں نے رژیم کے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
اسرائیل کا غزہ سمیت تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے مکمل انخلا ضروری ہے: پاکستان
اسلام آباد (نیوزڈیسک) پاکستان نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی افواج کا غزہ سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے مکمل انخلا ضروری ہے اور جنگی جرائم اور نسل کشی پر اسرائیل کا احتساب کیا جانا چاہئے۔
غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے دوران اب تک دسیوں ہزار فلسطین جان سے جا چکے ہیں اور پورے کے پورے محلّے، آبادیاں، ہسپتال، سکول اور بنیادی ڈھانچہ ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں، عالمی برادری کی کوششوں کے نتیجے میں 10 اکتوبر 2025 سے غزہ میں فائر بندی کا نفاذ ہوا، تاہم اس کے باوجود بھی اسرائیل کی جانب سے وقتاً فوقتاً حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
29 نومبر کو فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے الگ الگ پیغام میں کہا کہ حکومتِ پاکستان اور عوام اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ اٹل عزم اور مضبوط وابستگی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے فلسطینی عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ فلسطینی عوام کی حمایت پاکستان کے وجود کا حصہ رہی ہے، پاکستان کے قیام سے بھی سات برس قبل 1940 کی مشہور قراردادِ لاہور میں فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی اور ان کی ریاست کے قیام سے متعلق ایک شق شامل تھی۔
وزیراعظم اور صدر دونوں نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے مستقل جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی، عام شہریوں کے تحفظ اور اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے کیے جانے والے جنگی جرائم پر مکمل احتساب کا مطالبہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا ہو گا۔ اسرائیل کو تمام خلاف ورزیوں کا خاتمہ کرنا ہو گا اور انسانی بنیادوں پر امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنانا ہو گی۔
انہوں نے غزہ سمیت مقبوضہ فلسطینی سرزمین سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کو ضروری قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جب دنیا غزہ میں جاری وحشیانہ جارحیت کی مذمت کر رہی ہے تو ہمیں ہرگز یہ اجازت نہیں دینی چاہئے کہ ہماری توجہ مغربی کنارے کی سنگین صورتِ حال سے ہٹ جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ غیر قانونی اسرائیلی آبادکاریوں کا مسلسل پھیلاؤ بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور امن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری نے فلسطینیوں کے مصائب کے خاتمے کی دعا کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا کہ میں ایک دن مسجد اقصیٰ میں اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز ادا کر سکوں۔
وزیراعظم اور صدر مملکت نے ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے جائز حقوق، خصوصاً حقِ خود ارادیت اور ایک آزاد، قابلِ عمل اور جغرافیائی طور پر مسلسل ریاستِ فلسطین کے قیام کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتا ہے، جو 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔