المعلومہ سے اپنی ایک گفتگو میں شامی تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ جنوبی شام سے جولانی رژیم کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کیلیے قومی جماعتوں کو میدان میں آنا چاہئے۔ اسلام ٹائمز۔ شامی تجزیہ کار اور سیاسی مبصر "مصطفیٰ رستم" نے "المعلومہ" نیوز ایجنسی سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ جنوبی شام کے قصبے "بیت جن" پر اسرائیل کا تازہ فوجی حملہ، جولانی رژیم سے مکمل ہم آہنگی کے بعد انجام پایا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی مسلسل جارحیت کے مقابلے میں جولانی رژیم کی خاموشی صرف غفلت یا نااہلی کی وجہ سے نہیں، بلکہ یہ جرائم اسرائیل کے ساتھ دمشق کی کسی مخفی مفاہمت کا نتیجہ ہیں۔ مصطفیٰ رستم نے زور دے کر کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ سیاسی ہم آہنگی سے بالاتر ہے اور دونوں فریقوں (شام+اسرائیل) کے درمیان ایک عملی شراکت داری میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق، یہ شراکت جنوبی شام کے بعض علاقوں میں صیہونی افواج کی آزادانہ نقل و حرکت کے لیے قانونی جواز فراہم کرنے کے مقصد سے تشکیل دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک توسیع پسندانہ منصوبے کو نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسے حقیقت بنانے کے لیے بتدریج کام کر رہا ہے۔

دوسری جانب جولانی رژیم براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس منصوبے کی عملی شریک بن چکی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو دمشق کے مضافات، اسرائیلی قبضے میں ہوں گے۔ مصطفیٰ رستم نے مزید کہا کہ جولانی رژیم ایک غیر ملکی منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا ایک آلہ ہے اور اس کا مشن، داخلی ذرائع سے شام کی سلامتی کے ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہے۔ مذکورہ رژیم کے اثر و رسوخ کا سلسلہ ملکی وحدت کو نقصان میں ڈالے گا اور اسرائیل کے لیے وسیع طور پر حالات کو سازگار کرے گا۔ آخر میں مصطفیٰ رستم نے مطالبہ کیا کہ جنوبی شام سے جولانی رژیم کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے قومی جماعتوں کو میدان میں آنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی توسیع پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ نیز جنوبی شام کو قابض صیہونی رژیم کے چنگل سے بچانے کے لئے فوری اقدامات بھی اٹھانے چاہئیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جولانی رژیم انہوں نے رژیم کے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید