پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کا مثبت آغاز
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے پہلے دن کا مثبت آغاز ہوا، حصص کے لین دین میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔کاروباری ہفتے کے پہلے دن کاروبار کے آغاز پر پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی دیکھنے میں آئی اور کے ایس ای 100 انڈیکس 500 سے زیادہ پوائنٹس کے اضافے سے ایک لاکھ 67 ہزار 229 پوائنٹس کی حد پر پہنچ گیا۔خیال رہے کہ کاروباری ہفتے کے پانچویں اور آخری روز کاروبار کے آغاز پر سٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی تھی ، 1600 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 67 ہزار 5 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا تھا۔جمعہ کے روز ٹریڈنگ کے اختتام پر ہنڈرڈ انڈیکس 1304 پوائنٹس اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 66 ہزار 677 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔