افغانستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف اقدامات: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا بیان
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغانستان کے دورے کے دوران افغان وزیر خارجہ امیر متقی نے پاکستان کو اطلاع دی کہ انہوں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے چند افراد کو گرفتار کیا ہے، تاہم اس پر واضح کیا کہ چند سو افراد کی گرفتاری کافی نہیں ہے۔ وزیر خارجہ نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو اور امن ہی واحد راستہ ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران اسحاق ڈار نے بتایا کہ انہوں نے ماسکو، بحرین اور برسلز کے دورے کیے۔ ماسکو میں ایس سی او سربراہی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ملک کی معاشی ترجیحات، علاقائی روابط اور توانائی کے شعبے میں تعاون پر بات کی گئی۔ اس دوران صدر پیوٹن نے اجلاس میں شریک وفود کے سربراہان سے ملاقات بھی کی۔
برسلز میں وزیر خارجہ نے یورپی یونین کے صدر کے ساتھ ملاقات کی اور پاکستان-یورپی یونین اسٹریٹیجک ڈائیلاگ میں حصہ لیا۔ اس موقع پر مقبوضہ کشمیر، سندھ طاس معاہدہ، افغانستان، دہشت گردی اور جی ایس پی پلس سمیت مختلف امور پر بات ہوئی۔ انہوں نے یورپی یونین کے 27 ممالک کو بتایا کہ جو خبریں ان تک پہنچتی ہیں وہ ہمیشہ درست نہیں، اور افغانستان نے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے جو وعدے کیے تھے، وہ ابھی تک پورے نہیں ہوئے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان نے افغانستان سے کہا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کو پاک افغان سرحد سے دور رکھے یا پھر پاکستان کے حوالے کرے۔ افغانستان کو واضح کیا گیا کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو، اور پاکستان کی امن کی کوششوں کا مقصد صرف دہشت گردی کی روک تھام ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان سے وعدوں کے مطابق اقدامات کیے، مگر افغانستان کی جانب سے دہشت گردی کے معاملے میں ابھی تک مکمل تعاون نہیں ملا، جس کی وجہ سے صورتحال مزید تشویشناک ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔ ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایران کے معاملے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ سینیٹ میں پیشی کے موقع پر کوری بُکر نے کہا کہ آخر امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے۔؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے کہا کہ ڈیل بھی ایسی جسے خود امریکا ہی پہلے کچرے کے ڈبے میں پھینک چکا تھا۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی ہوئی ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔
ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی میٹنگز ایک مہینہ، دو مہینے یا تین مہینوں تک بھی چل سکتی ہے۔ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تلفی کے حوالے سے مذاکرات کا عہد کرنا ہوگا۔ مارکو روبیو کے مطابق آج ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے جن پہلووں پر بات کرنے کو راضی ہوگیا ہے، پہلے ان پر انکاری تھا۔