اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) پاکستان 2026ء تا 2027ء کیلئے ای سی او کونسل آف منسٹرز کا چیئرمین منتخب ہو گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ای سی او رکن ملکوں کے وزراء خارجہ نے پاکستان کو چیئرمین شپ پر مبارکباد دی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق  نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقتصادی تعاون تنظیم کے  کونسل آف وزراء  (ای سی او سی او ایم)کے 29 ویں اجلاس میں ورچوئل شرکت کے موقع پر اپنے خطاب میں  جمہوریہ قازقستان کے وزیر خارجہ، اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے موجودہ چیئرمین کونسل آف وزراء  وزیر خارجہ یرمک کوچربایف اور اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ، اقتصادی تعاون تنظیم کے گزشتہ چیئرمین کونسل آف وزراء وزیر خارجہ سید عباس عراقچی، سیکرٹری جنرل اقتصادی تعاون تنظیم، سفیر ڈاکٹر اسد مجید خان کو کونسل آف وزراء  کے 29 ویں کامیاب اجلاس کی میزبانی پر مبارکباد دی اور یرمک کوچربایف کو جمہوریہ قازقستان کی وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم قازقستان کی صدارت کے دوران اقتصادی تعاون تنظیم   کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ اجلاس عالمی اور علاقائی جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں اور تکنیکی ترقی کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے درمیان ہو رہا ہے جو علاقائی تعاون کو متاثر کر رہی ہیں، آج کی اس غیر یقینی دنیا میں اجتماعی طور پر مشترکہ چیلنجز کا سامنا کرنا، معاشی خلیج کو عبور کرنا اور مشترکہ خوشحالی کے امکانات کو کھولنا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ اسی مناسبت سے ہمیں اقتصادی تعاون تنظیم کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے مقاصد کو پورا کر سکے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ اقتصادی تعاون تنظیم کا خطہ وسیع جغرافیائی خطے اور تجارتی و معاشی نظاموں کے انضمام کے لیے قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کی وجہ سے زبردست مواقع کا حامل ہے۔ بطور بانی رکن پاکستان اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کو کثیر الجہتی مصروفیت کے ذریعے رکن ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک مفید پلیٹ فارم سمجھتا ہے۔  انہوں نے کہا کہ ایسے راستے ہماری قومی ترقی کا ایک اہم ستون ہے جو خطے کے اندر علاقائی انضمام کی بنیاد ہیں جس میں سڑک، ریل، بحری، ہوائی اور دیگر نیٹ ورکس شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی نقل و حمل کی پالیسی کے ہم آہنگ ہوتے ہوئے ہم فریم ورکس کی ازسرنو تجدید کر رہے ہیں، کسٹم کے طریقہ کار کو ہم آہنگ بنا رہے ہیں اور بین الاقوامی نقل و حمل کے کنونشنز بشمول ٹی آئی آر سسٹم کو اپنا رہے ہیں تاکہ پاکستان اور دیگر ای سی او رکن ممالک کے درمیان سامان اور لوگوں کی نقل و حمل کو بلا روک ٹوک جاری رکھا جا سکے۔ دریں اثناء نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے  انٹرنیشنل فیڈریشن آف اکائونٹنٹس (آئی ایف اے سی) کے صدر ژاں بوکو سے  ملاقات کے دوران  مالیاتی نظم و نسق، شفافیت اور موثر اقتصادی پالیسی سازی کے فروغ میں اکائونٹنسی کے شعبے کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا۔ اسحاق ڈار نے ژاں بوکو کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور انہیں بتایا کہ جدید عالمی تقاضوں خصوصاً مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر ہونے والی تیز رفتار تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے مضبوط نظام کی ضرورت ہے۔ انہوں  نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستانی ماہرین کو نئے عالمی معیارات اور تکنیکی تبدیلیوں کے لیے تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے جس کے لیے  آئی ایف اے سی کے ساتھ  شراکت داری مزید مضبوط بنائی جائے گی۔ اسحاق ڈارنے  ایس اے پی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  مقامی کمیونٹیز کی بھرپور شمولیت کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کے ترجیحی منصوبوں کی نشاندہی عوامی مشاورت سے کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ  ایس اے پی کے فنڈز کو مکمل شفافیت کے ساتھ عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے تاکہ ترقیاتی سرگرمیوں کے ثمرات براہ راست  عام شہریوں تک پہنچ سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اقتصادی تعاون تنظیم کونسل ا ف وزراء اسحاق ڈار نے پاکستان ا نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
 تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار