سری لنکا میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی، اموات کی تعداد 123 ہوگئیں
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سری لنکا میں شدید بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچادی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 123 تک پہنچ گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کولمبو سمیت سری لنکا کے مختلف علاقوں میں مسلسل ایک ہفتے کے ہونے والی بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال کا سامنا ہے سمندری طوفان دتوا کے باعث تباہ کن بارشوں اور سیلاب نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 123 ہو گئی ہے، جب کہ 130 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ بیشتر اموات لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہوئیں، شمالی اور مشرقی اضلاع میں 300 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی جس نے کئی پہاڑی علاقوں میں مٹی کے تودے گرنے کی صورتحال کو جنم دیا۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر کے مطابق طوفانی موسم اور سیلابی ریلوں نے مجموعی طور پر 44 ہزار سے زائد افراد کو متاثر کیا ہے۔ کئی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین کو اسکولوں اور سرکاری عمارتوں میں قائم عارضی کیمپوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
سری لنکن محکمہ آبپاشی نے خبردار کیا ہے کہ مشرقی اور جنوبی حصوں میں—جو پہلے ہی شدید بارشوں سے جھیل بن چکے ہیں—مزید سیلاب کے امکانات موجود ہیں، جب کہ دارالحکومت کولمبو کے نشیبی علاقوں میں بھی خطرہ برقرار ہے۔
حکام کے مطابق کئی متاثرہ افراد سیلاب بڑھنے کے باعث گھروں کی چھتوں پر محصور ہو گئے تھے، جنہیں ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ریسکیو کارروائیوں میں نکالا گیا۔ ایمرجنسی ٹیمیں اب بھی متعدد متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اور سیلاب
پڑھیں:
تھائی لینڈ، ملائیشیا، انڈونیشیا میں تباہ کن سیلاب! ہلاکتیں 33 تک پہنچ گئیں
تھائی لینڈ، ملائیشیا اور انڈونیشیا دہائیوں بعد آنے والے بدترین سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، تینوں ممالک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 33 ہو گئی ہے۔
شدید بارشوں نے تھائی لینڈ کے جنوبی شہر ہاٹ یائی کو تقریباً ڈوبا دیا، جہاں جمعہ کے روز 335 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ 300 برسوں میں ایک دن میں ہونے والی سب سے زیادہ بارش ہے۔
سیلاب نے تھائی لینڈ کے 9 اور ملائیشیا کے 8 صوبوں کے علاوہ انڈونیشیا کے متعدد علاقوں کو بھی متاثر کیا، جہاں تقریباً 50 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ انڈونیشیا میں 13 اور ملائیشیا میں ایک ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔
ہاٹ یائی شہر کے ہسپتالوں میں پانی داخل ہونے کے بعد تھائی فوج نے کشتیوں، ہیلی کاپٹروں اور حتیٰ کہ اپنے واحد طیارہ بردار جہاز کو بھی امدادی کارروائیوں کے لیے متحرک کیا۔ شہر کے کئی علاقے بجلی کے بغیر رات بھر اندھیرے میں ڈوبے رہے جبکہ متاثرہ لوگ چھتوں پر محصور ہو گئے۔
حکام کے مطابق بعض علاقوں میں پانی کم ہو رہا ہے، تاہم تیز بہاؤ کے باعث ریسکیو ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تھائی فوج نے 200 کشتیاں اور 20 ہیلی کاپٹر متاثرہ علاقوں میں تعینات کر دیے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر تقریباً 77 ہزار سے زائد افراد نے مدد کی اپیلیں بھیجی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید موسمی صورتحال کا تعلق بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت سے ہو سکتا ہے، جو ٹراپیکل طوفانوں کو مزید طاقتور بنا رہا ہے۔