نیدرلینڈز میں بڑھتے سیلاب اور رہائش کی کمی کے درمیان تیرنے والے گھروں کی مانگ میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
نیدرلینڈز میں بارشوں اور سیلاب کے مسلسل خطرات نے عوام اور ماہرین کو متبادل رہائش کی تلاش پر مجبور کر دیا ہے، اور اسی وجہ سے ملک میں تیرتے گھروں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
یہ جدید رہائشی ماڈل نہ صرف محفوظ سمجھے جاتے ہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ نیدرلینڈز میں تقریباً ایک تہائی خطہ سمندر کی سطح سے نیچے ہونے کے باعث حکام بھی اس طرز تعمیر کو فروغ دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: سری لنکا میں سیلاب کے باعث ہلاکتیں 56 تک پہنچ گئیں، دفاتر اور اسکولز بند
2022 کی شدید طوفانی بارش کے دوران ایمسٹرڈیم کے تیرتے محلے سخون شپ کے رہائشیوں کو اپنے گھروں پر پورا اعتماد تھا۔ یہ گھر فولادی ستونوں کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں اور پانی کی سطح بڑھنے یا کم ہونے پر خود بخود اوپر نیچے حرکت کر کے محفوظ رہتے ہیں۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پانی پر رہنا اب ان کے لیے نہایت معمول کی بات ہے۔
ایمسٹرڈیم اور روٹرڈیم جیسے شہر پہلے ہی سینکڑوں تیرتے گھروں، دفاتر اور فارموں کی میزبانی کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آئندہ 10 برسوں میں ملک میں 10 لاکھ نئے گھروں کی ضرورت ہو گی، اور پانی پر بننے والی بستیاں اس کمی کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: جنوبی پنجاب میں سیلاب متاثرین کے لیے ایئر لفٹ ڈرونز سے ریسکیو و ریلیف آپریشن جاری
ڈچ انجینئرز نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ مالدیپ، ناروے، فرانس اور فرانسیسی پولینیشیا جیسے ممالک میں بھی بڑے پیمانے پر تیرتے شہروں کے منصوبے تیار کر رہے ہیں۔ مالدیپ میں 20 ہزار افراد کے لیے فلوٹنگ سٹی پر تعمیراتی کام جلد شروع ہو رہا ہے۔
اگرچہ ایسے گھروں کی تعمیر میں انفراسٹرکچر، بجلی اور نکاسی آب جیسے چیلنجز موجود ہیں، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح کے باعث یہی تعمیراتی ماڈل دنیا بھر میں شہروں کو محفوظ رکھنے کا مؤثر حل بن سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تیرتے گھر سیلاب فولٹنگ ہاؤس نیدرلینڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تیرتے گھر سیلاب نیدرلینڈ رہے ہیں کے لیے
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر