نیدرلینڈز میں بارشوں اور سیلاب کے مسلسل خطرات نے عوام اور ماہرین کو متبادل رہائش کی تلاش پر مجبور کر دیا ہے، اور اسی وجہ سے ملک میں تیرتے گھروں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

یہ جدید رہائشی ماڈل نہ صرف محفوظ سمجھے جاتے ہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ نیدرلینڈز میں تقریباً ایک تہائی خطہ سمندر کی سطح سے نیچے ہونے کے باعث حکام بھی اس طرز تعمیر کو فروغ دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: سری لنکا میں سیلاب کے باعث ہلاکتیں 56 تک پہنچ گئیں، دفاتر اور اسکولز بند

2022 کی شدید طوفانی بارش کے دوران ایمسٹرڈیم کے تیرتے محلے سخون شپ کے رہائشیوں کو اپنے گھروں پر پورا اعتماد تھا۔ یہ گھر فولادی ستونوں کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں اور پانی کی سطح بڑھنے یا کم ہونے پر خود بخود اوپر نیچے حرکت کر کے محفوظ رہتے ہیں۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پانی پر رہنا اب ان کے لیے نہایت معمول کی بات ہے۔

ایمسٹرڈیم اور روٹرڈیم جیسے شہر پہلے ہی سینکڑوں تیرتے گھروں، دفاتر اور فارموں کی میزبانی کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آئندہ 10 برسوں میں ملک میں 10 لاکھ نئے گھروں کی ضرورت ہو گی، اور پانی پر بننے والی بستیاں اس کمی کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: جنوبی پنجاب میں سیلاب متاثرین کے لیے ایئر لفٹ ڈرونز سے ریسکیو و ریلیف آپریشن جاری

ڈچ انجینئرز نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ مالدیپ، ناروے، فرانس اور فرانسیسی پولینیشیا جیسے ممالک میں بھی بڑے پیمانے پر تیرتے شہروں کے منصوبے تیار کر رہے ہیں۔ مالدیپ میں 20 ہزار افراد کے لیے فلوٹنگ سٹی پر تعمیراتی کام جلد شروع ہو رہا ہے۔

اگرچہ ایسے گھروں کی تعمیر میں انفراسٹرکچر، بجلی اور نکاسی آب جیسے چیلنجز موجود ہیں، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح کے باعث یہی تعمیراتی ماڈل دنیا بھر میں شہروں کو محفوظ رکھنے کا مؤثر حل بن سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

تیرتے گھر سیلاب فولٹنگ ہاؤس نیدرلینڈ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: تیرتے گھر سیلاب نیدرلینڈ رہے ہیں کے لیے

پڑھیں:

دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس

دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر

نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟

ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔

کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟

حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران