3 سالہ ابراہیم کی ہلاکت کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی کی عدالت میں دائر کردی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق درخواستگزار عبد الاحد ایڈووکیٹ نے رائر درخواست میں موقف اپنایا کہ نیپا کے قریب مین ہول میں گر کر تین سالہ ابراہیم بچہ جابحق ہوا۔ 3 سالہ ابراہیم کی ہلاکت کا مقدمہ مئیر کراچی اور ٹاؤن چیئرمین گلشن اقبال کیخلاف درج کرانے کا حکم دیا جائے۔

متاثرہ بچے کے اہلخانہ نے بلدیاتی اور ضلعی انتظامیہ کیخلاف غفلت کا الزام عائد کیا ہے۔ نامزد ملزم اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ریسکیو اہلکار بروقت موقع پر نہیں پہنچے، اہلخانہ نے بچے کی تلاش کے لیے 15 ہزار خرچ کرکے نجی مشنری بلوائی۔

درخواست گزار نے کہا کہ نا اہل اور کرپٹ حکومت کا خمیازہ شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ پولیس کو نامزد ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔

اندراج مقدمہ کی درخواست شیخ ثاقب احمد ایڈوکیٹ نے دائر کی۔ انہوں نے کہا کہ کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود اداروں نے غفلت کا مظاہرہ کیا۔ درخواست میں میئر کراچی، ٹاؤن چئیرمین گلشن اقبال، ایکسن اور پروجیکٹ ڈائریکٹر کو فریق بنایا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم

— فائل فوٹو 

سندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔

عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔

عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔

کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔

اصل ملزمان کو بچانے کیلئے اسسٹنٹ ایکسائز افسر کو نامزد کیا گیا، وکیل

کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...

جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا