ابراہیم کی ہلاکت کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں دائر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
3 سالہ ابراہیم کی ہلاکت کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی کی عدالت میں دائر کردی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق درخواستگزار عبد الاحد ایڈووکیٹ نے رائر درخواست میں موقف اپنایا کہ نیپا کے قریب مین ہول میں گر کر تین سالہ ابراہیم بچہ جابحق ہوا۔ 3 سالہ ابراہیم کی ہلاکت کا مقدمہ مئیر کراچی اور ٹاؤن چیئرمین گلشن اقبال کیخلاف درج کرانے کا حکم دیا جائے۔
متاثرہ بچے کے اہلخانہ نے بلدیاتی اور ضلعی انتظامیہ کیخلاف غفلت کا الزام عائد کیا ہے۔ نامزد ملزم اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ریسکیو اہلکار بروقت موقع پر نہیں پہنچے، اہلخانہ نے بچے کی تلاش کے لیے 15 ہزار خرچ کرکے نجی مشنری بلوائی۔
درخواست گزار نے کہا کہ نا اہل اور کرپٹ حکومت کا خمیازہ شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ پولیس کو نامزد ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔
اندراج مقدمہ کی درخواست شیخ ثاقب احمد ایڈوکیٹ نے دائر کی۔ انہوں نے کہا کہ کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود اداروں نے غفلت کا مظاہرہ کیا۔ درخواست میں میئر کراچی، ٹاؤن چئیرمین گلشن اقبال، ایکسن اور پروجیکٹ ڈائریکٹر کو فریق بنایا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :