ہر شہید کے خون کا مکمل انصاف کریں گے، شہباز شریف، محسن نقوی کاعزم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیرداخلہ محسن نقوی نے ڈیرہ اسمعیل خان میں پولیس کی گاڑی پر خارجی دہشتگردوں کے حملے میں تین جوانوں کے شہید ہونے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کو دہرایا ہے کہ دہشتگردی کے عفریت کا ہر قیمت پر خاتمہ کریں گے اور ہر شہید کے خون کا مکمل انساف کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس موبائل پر دہشتگرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے 3 پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا اور شہدا کے درجاب کی بلندی کی دعا کی۔
صدر مملکت ، وزیر اعظم اور وفاقی وزیر داخلہ کا 7 خوارج ہلاک کرنے پر سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین
وزیراعظم نے حملے میں زخمی اہلکار کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کیخلاف جنگ جاری رکھیں گے، واقعے کے ذمہ داران کاتعین کرکے انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔
کے پی پولیس کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں: محسن نقوی
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس گاڑی پر فتنہ الخوارج کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے 3 پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی دو کاروائیاں، 7 خوارج ہلاک
محسن نقوی نے شہید اے ایس آئی گل عالم، کانسٹیبل رفیق اور سخی جان کے لواحقین سےدلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے خیبرپختونخوا پولیس کے بہادر سپوتوں کی قربانی کو سلام پیش کیا اور کہا کے پی پولیس کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ہمارے بہادر جوانوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔