وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیرداخلہ محسن نقوی نے ڈیرہ اسمعیل خان  میں پولیس کی گاڑی پر خارجی دہشتگردوں کے حملے میں تین جوانوں کے شہید ہونے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کو دہرایا ہے کہ دہشتگردی کے عفریت کا ہر قیمت پر خاتمہ کریں گے اور ہر شہید کے خون کا مکمل انساف کریں گے۔ 

وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس موبائل پر دہشتگرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے 3 پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا اور شہدا کے درجاب کی بلندی کی دعا کی۔

صدر مملکت ، وزیر اعظم اور وفاقی وزیر داخلہ کا 7 خوارج ہلاک کرنے پر سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین

وزیراعظم  نے حملے میں زخمی اہلکار کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کیخلاف جنگ جاری رکھیں گے، واقعے کے ذمہ داران کاتعین کرکے انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔

کے پی پولیس کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں: محسن نقوی
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس گاڑی پر فتنہ الخوارج کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے  والے 3 پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی دو کاروائیاں، 7 خوارج ہلاک

محسن نقوی نے شہید اے ایس آئی گل عالم، کانسٹیبل رفیق اور سخی جان کے لواحقین سےدلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے خیبرپختونخوا پولیس کے بہادر سپوتوں کی قربانی کو  سلام پیش کیا اور کہا کے پی پولیس کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ہمارے بہادر جوانوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری