کراچی: کمسن ابراہیم کی لاش تلاش کرنے والے تنویر کو پولیس کا اعزاز، ریسکیو دعوؤں پر سوالات اٹھ گئے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
3 سالہ ابراہیم کی لاش تلاش کرنے والے نوعمر لڑکے تنویر کو سوشل میڈیا پر بھرپور خراجِ تحسین پیش کیے جانے کے بعد کراچی پولیس نے باقاعدہ طور پر اس کی بہادری کا اعتراف کیا، جبکہ اس واقعے نے شہری انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کے 15 گھنٹے طویل آپریشن کے دعوؤں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایس ایس پی ایسٹ ڈاکٹر فخر رضا ملک نے تنویر اور اس کے ایک رشتہ دار کو بلا کر اسے پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس لڑکے سے ملاقات کی جس نے لاش ڈھونڈی۔ تنویر بہادر اور خوش اخلاق لڑکا ہے۔
مزید پڑھیں:بھٹو نیپا چورنگی میں کیوں زندہ نہیں؟
یہ ملاقات اس پس منظر میں ہوئی جب سوشل میڈیا پر پولیس اہلکاروں کی جانب سے تنویر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر تنقید کی گئی اور شہری اداروں پر بھی یہ اعتراض اٹھا کہ انہوں نے لڑکے کے کردار کو تسلیم کرنے کے بجائے تمام کریڈٹ اپنے کھاتے میں ڈال لیا۔
دوسری جانب ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان الحق حسیب خان نے بتایا کہ تنویر نالے کے قریب موجود تھا۔ جبکہ 2 ملازمین پہلے سے اس مقام پر موجود تھے اور اسے ان ممکنہ مقامات میں سے ایک قرار دیا تھا جہاں بچے کی لاش مل سکتی تھی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ عملے نے لاش ایک نالے میں دیکھی اور ریسکیو ٹیم کو اطلاع دی، جبکہ عارضی طور پر انہوں نے تنویر کو اندر جا کر تصدیق کرنے کو کہا۔ نوعمر لڑکے نے اندر جا کر لاش نکالی، جسے بعد ازاں ریسکیو ٹیم کی گاڑی میں منتقل کیا گیا۔
مزید پڑھیں: داؤد ابراہیم کے بھانجے کی پارٹی میں شرکت کا معاملہ، اداکارہ نورا فتیحی نے خاموشی توڑ دی
اس واقعے نے نہ صرف نوعمر تنویر کی بہادری کو نمایاں کیا ہے بلکہ شہری اداروں اور ریسکیو محکموں کے طرزِ عمل اور ان کے دعوؤں پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایس ایس پی ایسٹ ڈاکٹر فخر رضا ملک ریسکیو سوشل میڈیا کراچی کمسن ابراہیم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایس ایس پی ایسٹ ڈاکٹر فخر رضا ملک ریسکیو سوشل میڈیا کراچی کمسن ابراہیم انہوں نے
پڑھیں:
سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
سوات (ڈیلی پاکستان آن لائن) سوات کے مختلف علاقوں میں چھتیں منہدم ہونے کے دو الگ الگ واقعات میں بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہوگئے۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق چارباغ کے علاقے گنڈھیرئی میں ایک گھر کی چھت اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں 8 سالہ شیما اور 6 سالہ مناہل جاں بحق ہوگئیں، جبکہ حورین اور ان کی والدہ زخمی ہوئیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 سوات کی ڈیزاسٹر ریسپانس اور میڈیکل ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔
مقامی افراد نے ملبے تلے دبے چار افراد کو نکال لیا تھا، جنہیں ریسکیو اہلکاروں نے طبی امداد فراہم کی۔ زخمیوں کو مزید علاج کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال منگلور منتقل کر دیا گیا جبکہ جاں بحق بچیوں کی لاشیں بھی اسپتال منتقل کر دی گئیں۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
دوسری جانب کالام کے علاقے بلوگا میں ایک کچے ہوٹل کے کمرے کی چھت گرنے سے 32 سالہ وقاص جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والے شخص کا تعلق ملاکنڈ سے بتایا جاتا ہے۔
ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال کالام منتقل کر دیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق دونوں واقعات کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
اس سے قبل، شانگلہ کے علاقے کوزہ الپوری، رحیم آباد میں ایک گھر میں کمرے کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق جبکہ ایک بچی زخمی ہوگئی تھی۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :