کراچی کے علاقے گلشن اقبال نیپا پل کے قریب کھلے گٹر میں گرنے والے 3 سالہ بچے کا تاحال پتا نہیں چل سکا، ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کے واقعے کی جگہ پہنچنے پر شہری مشتعل ہوگئے اور انہیں گاڑی سے اترنے نہیں دیا۔ مظاہرین نے میڈیا کی گاڑیوں پر بھی پتھراؤ کیا۔

شہریوں کے سخت احتجاج پر ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر فاروق ستار گاڑی سے ہی نہیں اترے، انہوں نے کہا کہ بچے کے مین ہول میں گرنے پر گہرا دُکھ ہے، ٹوٹی سڑکیں، کھلے گٹر حکومت سندھ اور میئر کراچی کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

فاروق ستار نے کہا کہ متعدد بچے کھلے مین ہولز کا نشانہ بن چکے ہیں مگر حکومت کی نظر میں سب اچھا ہے۔ مشتعل مظاہرین کے سخت احتجاج پر فاروق ستار گاڑی سے اترے بغیر روانہ ہوگئے۔

اہلخانہ اور علاقہ مکینوں کا احتجاج، پتھراؤ
دوسری جانب امدادی کارروائی کے لیے مشینری نہ پہنچنے اور عدم تعاون پر بچے کے اہلخانہ اور علاقہ مکینوں نے نیپا فلائی اوور کے قریب احتجاج شروع کردیا ہے۔

مشتعل افراد نے سڑکوں پر ٹائر جلاکر ٹریفک معطل کردی ہے، دفاتر جانے والے شہریوں کو زبردستی روکنے کی کوششیں کی گئیں۔

مشتعل مظاہرین نے میڈیا پر حملہ کرتے ہوئے پتھراؤ کیا، جس سے کچھ نجی چینلز کی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

یونیورسٹی روڈ دونوں اطراف ٹریفک کے لیے بند
ٹریفک پولیس کا بتانا ہے کہ نیپا فلائی اوور سے مین یونیورسٹی روڈ دونوں اطراف ٹریفک کے لیے بند ہے، ٹریفک کو نیپاچورنگی سے مین راشد منہاس روڈ جوہر موڑ کی طرف بھیجا جارہا ہے۔

ٹریفک پولیس کے مطابق حسن اسکوائر سے نیپا جانے والی ٹریفک کو المصطفیٰ اسپتال سے اندرون آبادی کی طرف بھیجا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ رات 11 بجے نیپا کے قریب معروف ڈیپارٹمنٹل اسٹور کے سامنے تین سالہ بچہ ابراہیم کھلے گٹر میں گر کر لاپتہ ہوگیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: فاروق ستار

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو