افغان طالبان رجیم کے تحت انسانی حقوق کی پامالیاں اور بڑھتی غربت، افغان عوام مشکلات کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
افغان طالبان رجیم کی سخت پابندیوں اور سفاکانہ حکمرانی کے تحت افغانستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں جاری ہیں۔ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور اقتصادی مشکلات نے ہزاروں افغان خاندانوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا مسئلہ افغان عوام سے نہیں، افغان طالبان رجیم سے ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
افغان میڈیا کے مطابق، نوجوان تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہیں اور کم تنخواہ پر کام کرنے کے باوجود اپنی بنیادی ضروریات پوری نہیں کر پا رہے۔
افغان طالبان رجیم سخت پابندیوں کی آڑ میں انسانی حقوق کی پامالیوں میں مصروف
افغان عوام کی زندگیاں اور بنیادی حقوق طالبان کی سفاکی اور دہشت گردانہ حکمرانی کی بھینٹ چڑھ گئے
بے روزگاری اور اقتصادی مشکلات نے ہزاروں افغان خاندانوں کی زندگی اجیرن کر دی@pajhwok @ReutersPakistan pic.
— Media Talk (@mediatalk922) December 3, 2025
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ سیاسی عدم استحکام اور طالبان کی نااہلی کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری اور معاشی بحالی ممکن نہیں۔
ماہرین نفسیات کے مطابق بڑھتی غربت اور بے روزگاری کے باعث نوجوانوں میں نفسیاتی دباؤ اور خودکشی کے رجحانات بڑھ رہے ہیں۔ جبکہ سینٹر فار سیویلیئنز ان کانفلیکٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں شہریوں کی حفاظت کی صورتحال انتہائی خطرناک ہے۔
مزید پڑھیں: افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج نفرت اور بربریت کے علم بردار، مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب
افغان طالبان کی قیادت کی سفاکی، خواتین پر پابندیاں اور معاشی بحران نے ملک کو شدید مشکلات میں دھکیل دیا ہے، جس سے عام افغان شہریوں کی زندگی مزید دشوار ہو گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان طالبان رجیم افغان عوام افغان میڈیا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان طالبان رجیم افغان عوام افغان میڈیا افغان طالبان رجیم افغان عوام کی زندگی
پڑھیں:
’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
پاکستان کے لیجنڈری گلوکار عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے اپنی زندگی سے متعلق ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے مداحوں کو حیران کر دیا۔ معروف گلوکار کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے آبائی علاقے عیسیٰ خیل میں اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا رکھی ہے اور وہ آخرت کی تیاری کو زندگی کا اہم ترین حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔
عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے حال ہی میں صحافی ارشاد بھٹی کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی، موسیقی اور ذاتی خیالات پر کھل کر گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا رکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے آخرت کی تیاری کر لی ہے۔ میری قبر عیسیٰ خیل میں تیار ہے، مکمل بن چکی ہے۔ اگر آپ میری زندگی میں آئیں گے تو میں آپ کو دکھا دوں گا ورنہ بعد میں خود ہی دیکھ لیں گے۔ ہمارا اپنا خاندانی قبرستان بھی ہے، جہاں میں نے اپنے لیے ایک قبر مخصوص کر رکھی ہے۔ اس کے ساتھ چند جگہیں اور بھی ہیں جن میں سے ایک کے بارے میں میں نے مذاق میں کہا تھا کہ وہ میری اہلیہ کے لیے ہے لیکن ساتھ ہی کہا کہ مذاق کر رہا ہوں حقیقت میں صرف اپنی قبر محفوظ کروائی ہے۔ اللہ ہم سب پر رحم فرمائے۔
گلوکار نے قبر کے بارے میں بتایا کہ یہ خیال اس وقت آیا جب میں نے ایک فارم ہاؤس اور مسجد تعمیر کروائی۔ پھر سوچا کہ میرے لیے بھی ایک جگہ ہونی چاہیے۔ میں اپنے کئی قریبی دوستوں، عزیزوں، خاندان کے افراد اور اپنی والدہ کو کھو چکا ہوں، اسی لیے موت کا خیال ہمیشہ ذہن میں رہتا ہے۔ میری صرف یہی دعا ہے کہ اللہ مجھے پُرسکون موت عطا فرمائے۔
یہ بھی پڑھیں: عطااللہ عیسیٰ خیلوی کس کے لکھے گانے گا کر مشہور ہوئے؟
عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آنے لگیں۔ ایک صارف نے لکھا قبر پہلے سے بنوانا درست نہیں البتہ کفن کی تیاری کی جا سکتی ہے۔
ایک اور نے تبصرہ کیا صرف قبر تیار کر لینا کافی نہیں، اصل تیاری آخرت کی ہونی چاہیے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ان کا ایمان مضبوط ہے، ہم تو قبر کا ذکر کرنے سے بھی گھبراتے ہیں جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا قبر بنانے کے بجائے اگر اولڈ ایج ہوم بنا دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عطااللہ عیسیٰ خیلوی عیسیٰ خیلوی عیسیٰ خیلوی قبر قبر گلوکار ویڈیو وائرل