سعودی عرب میں پاک افغان مذاکرات ؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سعودی عرب میں بالوسطہ مذاکرات کی خبریں آئی ہیں۔ افغان وفد کی سعودی عرب جانے کی اطلاعات کی تصدیق ہوئی ہے۔ لیکن پاکستان سے ابھی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ کم از کم جب تک میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں تب تک کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ لیکن اطلاعات یہی ہیں کہ پاکستان سے بھی اہم افراد سعودی عرب گئے ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ پاکستان اور افغانستان دونوں ہی اپنے اپنے موقف قائم رہے ہیں۔ یا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ افغانستان کے اقدمات ابھی تک ناکافی ہیں جب کہ پاکستان ان اقدمات کی بنیاد پر سیز فائر کے لیے تیار نہیں۔
پاکستان کے ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار نے گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کے ایک سو لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ لیکن یہ ناکافی ہے۔ پاکستان صرف ایک سو لوگوں کی گرفتاری کو ناکافی سمجھتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ افغانستان میں جتنے بھی پاکستانی ہیں انھیں پاکستان کے حوالے کیا جائے۔ پاکستان ان کو واپس لینے کے لیے تیار ہے۔
جیسے ہم پاکستان میں موجود تمام افغان باشندوں کو افغانستان کے حکام کے حوالے کر رہے ہیں، افغانستان بھی ایسے ہی کرے۔ اس لیے پہلی بات پاکستان افغانستان میں موجود پاکستانیوں کی حوالگی چاہتا ہے۔ پاکستان افغان طالبان کا یہ موقف ماننے کے لیے تیار نہیں کہ وہ مہمان ہیں۔ پاکستان کا موقف ہے کہ وہ پاکستان کے مجرم ہیں۔ دہشت گرد ہیں۔ انھیں پاکستان کے حوالے کیا جائے۔
میں سمجھتا ہوں افغانستان کی طالبان حکومت کا ٹی ٹی پی کے لوگوںکو گرفتار کرنے کی پیشکش شاید پاکستان کو قبول نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ہے کہ پاکستان کو افغان طالبان پر اعتبار نہیں۔ ان کی گرفتاری بھی ایک ڈھونگ ہی سمجھی گئی ہیں۔
ایک سو لوگ تو میری رائے میں ایک پیشکش کے طور پر گرفتار کیے گئے تھے کہ ا س تعداد کو بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔ لیکن پاکستان نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا ہے، میں سمجھتا ہوں سعودی عرب میں افغان طالبان اس بنیاد پر شاید سیز فائر حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ سب کو گرفتارکریں گے۔ لیکن پاکستان کو یہ ماڈل قبول نہیں۔ ایسا پاکستان کے دباؤ میں اشرف غنی نے بھی کیا تھا۔ لیکن تب بھی پاکستان نے اس کو قبول نہیں کیا تھا کیونکہ اشرف غنی حکومت بھی انھیں پاکستان کے حوالے نہیں کررہی تھی بلکہ بلیک ملینگ کر رہی تھی اور دھوکا دے رہی تھی۔ حال ہی میں افغان سپریم کورٹ نے بہت سے مجرموں کی سزائیں معاف بھی کی ہیں۔ پاکستان کو اس پر تشویش ہے۔ اور پاکستان سمجھتا ہے اس معافی میں کئی دہشت گرد بھی رہا ہو گئے ہیں۔
اس وقت پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک ڈیڈ لاک موجود ہے۔ اسے توڑنے کا بظاہر کسی کے پاس کوئی حل نظر نہیں آرہا۔ پاکستان افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف ایک بھر پور آ پریشن کرنا چاہتا ہے۔ جس کا اشارہ نائب وزیر خارجہ نے کیا بھی ہے۔ لیکن اس سے پہلے سفارتکاری کو ایک موقع دیا جا رہا ہے۔ مجھے لگتا ہے قطر اور ترکی کی سفارتکاری ناکام ہو گئی ہے۔ سعودی عرب کی سفارتکاری کے بھی کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آرہے۔ ایسا لگتا ہے کہ افغان طالبان کے پاس وقت اور موقع کم رہ گیا ہے۔
سفارتکاری اور ثالثی کے لیے بھی ملک ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس لیے شاید سعودی عرب آخری آپشن ہی ہے۔ اس کے بعد کوئی آپشن نہیں ہو سکتی۔ حال ہی میں افغانستان میں چینی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پہلے تاجکستان میں چینی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انھیں افغان طالبان کی سرپرستی میں چلنے والے دہشت گرد گروپوں نے نشانہ بنایا۔ اس کے بعد افغانستان کے شہر بدخشاں میں بھی چینی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس لیے ہمیں چینی اہلکاروں کے نشانہ بنانے کی ایک مہم بھی نظر آرہی ہے۔ یقینا یہ چین کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کے بعد افغانستان میں چین کے مفادات کو بھی نقصان پہنچانے کی حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے۔ پہلے تو سی پیک میں افغانستان کو شامل کرنے کی باتیں ہو رہی تھیں۔ لیکن اب چین کو افغانستان سے نکالنے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔ یہ بھی اہم ہے۔
پاکستان پہلے ہی افغانستان سے نکل گیا ہے۔ چین بھی نکل گیا تو پھر افغانستان کس کے ساتھ ہے۔ کیا چین کو نکالنا بھی بھارت کی گریٹ گیم کا حصہ ہے؟ بھارت چاہتا ہے کہ چین کا افغانستان میں اثر و رسوخ کم کیا جائے۔ لیکن اس میں بھارت اکیلا نہیں ہو سکتا۔ کیا امریکا بھی اس کھیل کا حصہ ہے؟ کیا اسرائیل اس کھیل کا حصہ ہے؟یا افغان طالبان خود ہی ایک حماقت کے بعد دوسری حماقت کرتے جا رہے ہیں۔ امریکا تو بظاہر افغان مخالف نظر آرہا ہے۔ جیسے پاکستان نے افغانوں کو نکالا ہے ، امریکا بھی افغانوں کو نکالنے کی تیاری کر رہا ہے۔ پاکستان میں بھی ہزاروں افغان باشندے امریکی ویزہ کے انتظار میں تھے، ان کو بھی اب واپس افغانستان جانا ہے۔ اس لیے امریکا کے افغانستان میں مفادات ایسے نہیں ہیں کہ وہ چینی مفادات سے متصادم ہوں۔
بہر حال افغان طالبان کے لیے عالمی سطح پر اچھے اشارے نہیں ہیں۔ ان کی قبولیت میں کمی ہو رہی ہے۔ چین بھی دور ہو ر ہا ہے۔
امریکا بھی دور ہے۔ سوائے بھارت کے سب ممالک افغانستان کی موجودہ طالبان رجیم سے خوش نہیں ہیں۔ قطر کا جھکاؤ بلا شبہ افغان طالبان کی طرف نظر آیا ہے۔ لیکن وہ افغان طالبان کے لیے لڑنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ اس تناظر میں اگر چین اور امریکا پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں تو پاکستان کو کسی اور مدد کی ضرورت نہیں۔ پاکستان افغانستان میں ایک بھر پور پری امٹیو آپریشن کر سکتا ہے۔ جو یقینا نہ صرف افغان طالبان کو کمزور کرے گا۔ بلکہ وہاں موجود دہشت گردوں کے لیے زمین تنگ کر دے گا۔ مگر یہ کب ہوگا؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ لیکن مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ اس کے دن قریب آرہے ہیں۔ افغان طالبان کو سمجھنا چاہیے ، لیکن کون انھیں دیوار پر لکھا ہوا سمجھائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان افغان افغانستان میں افغانستان کے افغان طالبان نشانہ بنایا کے لیے تیار کہ پاکستان پاکستان کے پاکستان کو میں افغان کہ افغان کے حوالے میں چین نہیں ہو رہے ہیں اس لیے ہیں کہ رہا ہے گیا ہے کے بعد
پڑھیں:
ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔
ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایران جنگ پر سوالاتکانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثراتایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقفمارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ