Express News:
2026-06-03@01:35:36 GMT

سیکولر شخص کی سوانح حیات (آخری حصہ)

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

شبر زیدی نے قیام پاکستان کے محرکات کا غیر جانبداری سے تجزیہ کیا اور انھوں نے یہ تجزیہ کرتے ہوئے مستقبل میں ان کو پیش آنے والی مشکلات کو اہمیت نہیں دی جو اس ملک میں بہت مشکل کام ہے۔

انھوں نے لکھا ہے کہ بہت سی کتابوں کے مطالعہ کے باوجود یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پاکستان کے بانی بیرسٹر محمد علی جناح نے کبھی چوہدری رحمت علی سے ملاقات کی ہو (چوہدری رحمت علی نے پاکستان کا نام تجویز کیا تھا)۔ شبر زیدی پاکستان کے قیام کے محرکات بیان کرتے ہوئے یوں لکھتے ہیں کہ برصغیر ہندوستان کو آزادی ایسی عوامی تحریک کے ذریعے نہیں ملی جس طرح کی آزادی کی تحریکیں الجزائر اور جنوبی افریقی ممالک اور دنیا کے دیگر ممالک میں چلی تھیں۔ ہندوستان کی تقسیم اور دونوں ممالک کا قیام برطانوی حکومت کا سیاسی فیصلہ تھا جس کی وجہ دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانوی امپائر میں پیدا ہونے والا سیاسی اور معاشی بحران تھا۔

آزادی کا فیصلہ برطانیہ انڈین نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ کے درمیان معاہدے کے نتیجے میں ہوا تھا۔ گاندھی، پنڈت نہرو اور محمد علی جناح مقبول رہنما تھے مگر بھگت سنگھ، سکھویر، سبھاش چندر بھوش اور اشفاق اللہ خان نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی تھیں۔ مصنف نے لکھا کہ بھارت اور پاکستان کی حکومتوں نے ان رہنماؤں کی قربانیوں کو نظرانداز کردیا ۔ زیدی کی آدھی بات درست ہے کہ یہ رہنماء آج بھی بھارت کے ہیروز ہیں مگر پاکستان میں انگریز سامراج کے خلاف لڑنے والا کوئی ہیرو نہیں ہے۔

وہ ایک اور اہم نکتہ بیان کرتے ہیں کہ برطانیہ اور ان کے اتحادی ہندوستان کی فوج سے مکمل تابعداری چاہتے تھے۔ فوج کا احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے کا مطلب برطانوی امپائر کے لیے خودکشی کے مترادف ہوتا۔ برطانیہ کو مسلسل یہ خدشہ تھا کہ جرمنی کا آمر ہٹلر ہندوستان پر حملہ نہ کردے، اس بناء پر ان کا مفروضہ ہے کہ ہندوستان کی تقسیم فوج کا ان کی برطانوی سلطنت سے وفاداری کا امتحان تھا۔ ہندوستان کی فوج میں 50 فیصد کے قریب مسلمان تھے۔ ایک اور فیکٹر یہ تھا کہ رائل انڈین آرمی دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد برطانیہ کی ریاست کے لیے بوجھ بن سکتی تھی۔

ان کا خیال ہے کہ برطانیہ کے وزیراعظم چرچل پہلے ہندوستان کی تقسیم کے حق میں نہیں تھا مگر امریکا میں ٹرومین کے صدر بننے کے بعد امریکا کا مسلسل دباؤ تھا کہ ہندوستان کو آزاد کردیا جائے۔ اسی طرح خاص طور پر سوویت یونین کے دنیا کی بڑی طاقت کی حیثیت سے ابھرنے کے بعد برطانیہ کی حکومت کمیونزم کے خلاف ایک قطع اراضی چاہتی تھی۔ برطانوی سرکارکو بھارت کے وزیر اعظم پنڈت نہرو کے سوشل ازم سے رومانس کا بھی علم تھا۔ جناح اور مسلم لیگ کمیونزم کے شدید مخالف تھے۔ زیدی نے دیگر محرکات کے علاوہ ہندوستان کی تقسیم میں کراچی کی بندرگاہ کی اہمیت کو بھی محرک قرار دیا ہے۔ کراچی خلیج فارس کے جانے والے راستے پر ایک اہم بندرگاہ تھی اور اب بھی ہے۔ برطانیہ نہرو پر مکمل طور پر انحصار نہیں کرسکتا تھا اس بناء پر زیادہ مسلم لیگ کو کراچی کی بندرگاہ سونپ دی گئی۔

مصنف نے 1946میں رائل انڈین میں سپاہیوں اور افسروں کی بغاوت کے بارے میں لکھا ہے کہ برطانوی حکومت کے لیے نیوی کی بغاوت شدید شرمندگی کا باعث تھی۔ مصنف نے ان محرکات کا علاوہ تقسیم کے دیگر محرکات کا ایک جامع تجزیہ کیا ہے۔ انھوں نے بھگت سنگھ، عبدالمجید اور لاہور کے انقلابیوں کی قربانیوں کا ایک باب میں خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لاہور کے حقیقی انقلابیوں کا ذکر کیے بغیر ان کی سوانح عمری مکمل نہیں ہوسکتی۔ ان حریت پسندوں کے ساتھ وہ تاریخی حوالوں سے لکھتے ہیں کہ بھگت سنگھ ان کے ساتھیوں کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کے لیے کوئی ہندوستانی مجسٹریٹ تیار نہیں تھا۔ لاہور کی انتظامیہ نے اعزازی مجسٹریٹ نواب محمد خان قصوری کو تیار کیا اور قصوری نے بھگت سنگھ کو دی جانے والی پھانسی کی نگرانی کی۔ مصنف کا کہنا ہے کہ نواب قصوری کو لاہور میں جس جگہ پر گولی ماری گئی تھی، وہاں کبھی لاہور جیل کا پھانسی گھاٹ تھا اور بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کو اسی پھانسی گھاٹ میں سزا دی گئی تھی۔

مصنف نے پنجاب کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیتے ہوئے انگریز دور میں امرتسر میں جلیانوالا باغ میں انگریز فوج کے ہاتھوں ہندوستانیوں کے قتل عام کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علامہ اقبال نے جلیانوالا باغ میں قتل عام کی مذمت میں کوئی نظم نہیں لکھی، مگر آل انڈیا مسلم لیگ کے بیرسٹر محمد علی جناح نے اس سانحے کی شدید مذمت کی تھی۔ انھوں نے 7ستمبر 1930 کو کلکتہ میں اپنی تقریر میں کہا تھا ۔ 1919 میں ہندوستانی شہریوں کے قتل عام کے بعد سے آزادی کا ایک اہم موڑ آگیا تھا۔ شبر زیدی نے 1987 میں بے نظیر بھٹو کی لاہور واپسی پر ان کے فقید المثال استقبال کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بے نظیر بھٹو کا کارواں ہمارے دفتر کے سامنے سے گزر رہا تھا۔ کراچی آفس کے نعیم لاہور کے دفتر آئے ہوئے تھے۔ بس ایک چھوٹے کلائنٹ کی آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لے رہے تھے۔

وہ لکھتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو جلوس میں جانے کا نہیں تھا مگر میں ضبط نہ کرسکا۔ نعیم صاحب ٹوائیلٹ میں تھے تو میں جلوس میں چلا گیا اور میں بھی بے نظیر بھٹو کے کنٹینر میں سوار ہوگیا۔ جب نعیم صاحب واپس آئے تو انھیں پتہ چلا کہ میں بے نظیر بھٹو کے جلوس میں چلا گیا۔ زیدی نے بھارت کے آئین کے مصنف اور دلت رہنماء ڈاکٹر امبیڈ کر کی کتاب کے حوالے سے پاکستان اور فوج کے بارے میں ایک اہم تجزیہ کیا ہے۔

یہ تجزیہ تاریخ کی دیگر کتابوں میں نہیں ملتا۔ شبر زیدی کو 2013 میں سندھ کی نگراں حکومت کا وزیر خزانہ مقررکیا گیا۔ وہ اس تجربے کو دلچسپ انداز میں یوں بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے وزیر کی پاکستانی جھنڈے والی کار نہیں لی اور اپنی کار میں سندھ سیکریٹریٹ پہنچے تو انھیں سیکریٹریٹ میں داخلے کی اجازت نہیں ملی۔ جب انھوں نے سیکریٹری خزانہ سے ملنے کی کوشش کی تو وہ دفتر میں موجود نہیں تھے۔ انھیںچپڑاسی کی نشست پر بیٹھ کر انتظار کرنا پڑا۔ جب شبر زیدی نے اپنے محکمے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے کچھ اقدامات کیے تو ایک انتہائی اہم شخصیت سے ان کی ملاقات کرائی گئی اور شبر زیدی کی وزارت تبدیل ہوگئی، وہ ایکسائز کے محکمے کے وزیر بن گئے۔

 تحریک انصاف کی حکومت نے شبر زیدی کو ایف بی آرکا چیئرمین مقرر کیا۔ انھوں نے ٹیکس اصلاحات سختی سے نافذ کرنے کی کوشش کی تو تاجروں نے ہڑتال کردی۔ ان ہڑتالی تاجروں کی دو مذہبی جماعتیں حمایت کررہی تھیں۔ انھوں نے کراچی کے گورنر ہاؤس میں ان کے ساتھ رونما ء ہونے والے شرم ناک واقعے کا بھی ذکر کیا ہے۔ گورنر ہاؤس میں وزیر اعظم اور بانی تحریک انصاف سے تاجروں کے ایک وفد کی ملاقات ہوئی۔ وزیر اعظم نے اس ملاقات کے بعد زیدی سے کہا کہ وہ ان تاجروں سے علیحدہ ملاقات کرلیں۔ یہ ملاقات گورنر ہاؤس کی اینکسی میں ہوئی۔ اس ملاقات میں چار پانچ تاجروں نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی کوشش کی۔

اس کتاب کا ایک باب عظیم ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی اور ان کے ادارے ایس آئی یو ٹی کے بارے میں ہے۔ ایک باب میں ایم کیو ایم کے عروج اور زوال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ شبر زیدی بنیادی طور پر چارٹر اکاؤنٹنٹ ہیں۔ وہ ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کے ڈائریکٹرز میں شامل رہے۔ انھوں نے ایچ بی ایف سی میں اسلامی بینکنگ کے نام پر عام آدمی کے ساتھ ہونے والے برے سلوک کا پردہ چاک کیا ہے اور قرض کی سب شرائط کو ختم کردیا۔ شبر زیدی کہتے ہیں کہ اگر آخرت میں ان کی بخشش ہوئی تو صرف اسی کارنامے کی بناء پر ہوگی۔

انھوں نے اپنی شرمندگی کا ایک اور واقعہ لکھا ہے کہ وہ ایک بین الاقوامی مالیاتی ادارے سے پاکستان کو ملنے والے قرض کی شرائط کم کرنے کے لیے مذاکرات کررہے تھے تو شبر نے اس ادارے کی نمایندہ کے سامنے یہ دلیل دی کہ پاکستان ایٹمی طاقت ہے اس بناء پر اسے رعایت دی جانی چاہیے۔

موصوفہ نے کہا کہ ’’ ہم سے تو کسی ایٹمی طاقت نے آج تک قرض لیا ہی نہیں۔‘‘ انھوں نے اس کتاب میں اپنی زندگی کا ایک دردناک واقعہ لکھا ہے کہ رضویہ سوسائٹی میں ان کے معمر عزیز ڈاکٹر کو فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ شبر زیدی نے اس کتاب میں کئی لوگوں کا ذکر کیا ہے جن سے وہ متاثر ہوئے ۔ ان افراد میں وہ غریب ٹیلی فون آپریٹر خاتون بھی شامل ہیں جو غربت سے لڑتے ہوئے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہی تھی۔ اس ذکر سے شبر کی انسان دوستی کا بھرپور اظہار ہوتا ہے۔ اس کتاب میں بہت کچھ ہے۔ دراصل یہ کتاب پاکستان کی تاریخ کا آئینہ ہے۔ یہ سوانح عمری ایک حقیقی سیکولر انسان کی داستان ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہندوستان کی تقسیم بے نظیر بھٹو لکھا ہے کہ ان کے ساتھ کرتے ہوئے انھوں نے مسلم لیگ اس کتاب بناء پر کا ایک کے بعد کے لیے ہیں کہ کیا ہے کا ذکر اور ان

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی