کراچی کے سفاری پارک میں مختلف اقسام کے 15 جانوروں کی پیدائش
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی کے سفاری پارک میں جنگلی حیات کی افزائش سے متعلق اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں مختلف اقسام کے جانوروں کے مجموعی طور پر 15 ننھے بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نئی نسل میں گھوڑے، سندھ آئی بیکس، چیتل، مفلون، بلیک بَک، فیلو ڈئیر اور سفید فیلو ڈئیر کے بچے شامل ہیں۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے اس پیشرفت کو پارک میں جنگلی حیات کے لیے سازگار اور پائیدار ماحول فراہم کرنے کی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نومولود جانوروں کا ویٹرنری ماہرین نے تفصیلی طبی معائنہ کیا اور تمام بچوں کو صحت مند قرار دیا۔ انتظامیہ نے ان کی بہتر دیکھ بھال کے لیے خصوصی اقدامات بھی کیے ہیں۔
ترجمان کے ایم سی دانیال سیال کے مطابق میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ نومولود جانوروں کے لیے بہترین نگہداشت اور محفوظ ماحول یقینی بنایا جائے۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے نئی پیدائشوں کو سفاری پارک کے حیاتیاتی تنوع اور خوبصورتی میں اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ پارک میں جنگلی جانوروں کے لیے صحت مند اور محفوظ ماحول موجود ہے، یہ پیشرفت شہر کے شہریوں اور جنگلی حیات کے شائقین کے لیے خوشی کا باعث ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے نومولود جانوروں کے نام رکھنے اور اس موقع کا جشن منانے کے لیے خصوصی تقریب منعقد کرنے کا اعلان بھی کیا۔
کے ایم سی کے مطابق حالیہ پیدائشوں میں ایک مفلون، چار سندھ آئی بیکس، چار بلیک بَک، دو چیتل، ایک گھوڑا، دو فیلو ڈئیر اور ایک سفید فیلو ڈئیر شامل ہیں۔
بلدیہ عظمیٰ کراچی کا کہنا ہے کہ سفاری پارک میں سہولیات کی بہتری، بریڈنگ پروگراموں میں توسیع اور عالمی معیار کا ماحول فراہم کرنے کی کوششیں آئندہ بھی جاری رہیں گی، تاکہ جنگلی حیات مزید مستحکم انداز میں پروان چڑھ سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جنگلی حیات سفاری پارک جانوروں کے فیلو ڈئیر پارک میں کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز