پاک افغان کشیدگی، خواب ریزہ ریزہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251203-03-7
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کی موجودہ لہر صرف دو ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والا روایتی تناؤ نہیں بلکہ یہ خوابوں کے شیش محل کی کرچیاں ہیں۔ وہ خواب جو افغانستان میں ایک دوست حکومت کے قیام کے ساتھ وابستہ تھے۔ جب یہ بتایا جا رہا تھا کہ جب افغانستان میں پاکستان دوست حکومت قائم ہو گی تو دونوں ملک کر خطے میں طاقت کا نیا توازن قائم کریں گے۔ افغانستان میں دوست حکومت کے قائم ہوتے ہی طاقت کا توازن یوں قائم ہوگا کہ پاکستان اپنی مغربی سرحد کے معاملے میں ہر قسم کی پریشانی سے آزاد ہوگا اور یوں اس کی ساری توانائیاں مشرقی سرحد پر لگتی چلی جائیں گی۔ خوابوں کا یہ ٹھیلہ پانچ دہائیوں سے وقت کے بازار میں گردش کرتا رہا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عہد میں خوابوں کا یہ ٹھیلہ سجتا رہا اور جنرل ضیاء الحق بھٹو دور کی ہر پالیسی کی نفی کو جزو ایمان بنائے رہے مگر ان کی افغان پالیسی کو انہوں نے من وعن نہ صرف سینے سے لگایا بلکہ خوابوں کے اس ٹھیلے کے اصل وارث بھی بن بیٹھے اور اسے لے کر گلی گلی صدائیں دے کر خواب فروخت کرتے رہے۔ ان خوابوں کا عنوان تھا اسٹرٹیجک ڈیپتھ۔ یہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کا فوجی ڈاکٹرائن تھا۔ ضیاء الحق خود کہتے رہے کہ افغان مجاہدین ہمارے محسن ہیں ہمارے ہیرو ہیں۔ آپ افغان مہاجرین اور مجاہدین کی عملی مدد نہیں کر سکتے تو کم ازکم ان کی کامیابی کے لیے دست ِ دعا تو بلند کرسکتے ہیں۔ وہ افغان پالیسی کو اس طرح سینے سے چمٹائے ہوئے تھے کہ امریکا کو انہیں افغان پالیسی سے الگ کرنے کے لیے خاصی محنت کرنا پڑی یہاں تک اس عمل میں ان کا سفیر بھی کام آیا۔ اس دور میں تصویری نمائشوں اور میڈیا مہمات کے ذریعے افغان جہاد کو گلیمرائز کیا جاتا رہا۔ مظفر وارثی مرحوم کی ترنم سے پڑھی گئی نظمیں آج بھی حافظے کی لوح پر تازہ ہیں۔
مرد کہسار سن، آگ سے پھول چْن، خم نہ ہو سر تیرا
دشمن پر تیرا خوف طاری رہے، جنگ جاری رہے
اس کے بعد بھی خوابوں کا یہ ٹھیلہ پررونق رہا اور نگر نگر گھومتا رہا۔ افغانستان میں ایک پاکستان دوست حکومت کا قیام ان خوابوں کا مرکزی خیال تھا مگر خوابوں کو تعبیر دینا بھی ایک فن ہوتا ہے۔ کسی میں یہ بدرجۂ اَتم موجود ہوتا ہے اور کوئی اس فن سے عاری ہو تو خواب کی تعبیر کی دہلیز ہر پہلا قدم رکھ کر لڑھک جاتا ہے۔ پاکستان کے حکمران طبقات کا المیہ یہ ہے کہ یہ بڑے اور وسیع تناظر کے حامل خوابوں کی تعبیر تک پہنچنے سے پہلے ہی اپنے خواب نگر کو ریت کے گھروندے کی طرح اُڑا دیتے ہیں۔ صبغت اللہ مجددی، احمد گیلانی، برہان الدین ربانی اور احمد شاہ مسعود کو گل بدین حکمت یار پر قربان کیا جاتا رہا اور جب حکمت یار کو آگے بڑھا کر مقصد حاصل کرنے کا وقت آیا تو انہیں طالبان نامی نئے تجربے پر قربان کر دیا گیا۔ یوں طالبان پاکستان کا آخری خواب اور آخری تجربہ تھے۔ ان سے نباہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ تاجک ازبک ہزارہ اور قوم پرست پشتون پاکستان سے دور جا چکے تھے اب صرف طالبان جو پشتون غلبے اور قوت کی علامت تھے آخری سہارا اور آخری چارہ تھے۔ اسی لیے پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے زمانے میں امریکا کی تنقید اور تنقیص سہہ کر اور دنیا بھر میں دہشت گردی برآمد کرنے والے ملک کا الزام برداشت کرکے طالبان کی درپردہ مدد جاری رکھی۔ گوکہ یہ پاکستان کا تنہا فیصلہ نہیں تھا بلکہ چین اور روس جیسے کھلاڑی کو اس خطے سے امریکا کو نکال باہر کرنا چاہتے تھے اور اس مقصد کے لیے طالبان ہی ان کے پاس واحد آپشن تھا کیونکہ وہی افغانستان کی مزاحتمی قوت تھی۔
طالبان کی پہلی حکومت خواب کی تعبیر تھی مگر اس حکومت کو گرانے کے لیے پاکستان نے لاجسٹک سمیت ہر قسم کی مدد فراہم کی۔ سولہ سالہ لڑائی کے بعد طالبان دوبارہ کابل پر کنٹرول قائم کرچکے تو یہ پرانے خوابوں کی نئی تعبیر تھی کیونکہ ان سولہ برسوں میں حامد کرزئی اور اشرف غنی کی حکومتوں کو ماضی بعید کی افغان حکومتوں کا تسلسل یعنی بھارتی پراکسیز کہہ کر فاصلہ بنائے رکھا گیا۔ طالبان ان حکومتوں کو گرا کر طاقت میں آئے تو یہ دیرینہ خواب کی تعبیر تھی۔ طالبان کے اندر بھی کچھ خوابوں کے کچھ ایسے سودا گر تھے جو سمجھتے تھے کہ اب پاکستان اور افغانستان کی طاقت یکجا ہو کر طاقت کا علاقائی توازن بحال کرے گی۔ کابل کا اقتدار سنبھالنے کے چند ماہ بعد ہی ان کے اہم نمائندے سلطان محمود غزنوی کے مزار پر جاپہنچے۔ محمود غزنوی وہی تھے جن کے نام پر پاکستان نے میزائل بھی تیار کیا ہے اور اسے مسلم برصغیر کی تاریخ کا ہیرو بھی قرار دیا جارہا ہے۔ جس کے بارے میں تاریخ کی کتابوں میں لکھا گیا ہے کہ سومناتھ کے مندر پر سترہ حملے کیے اور آخری حملہ کامیاب ہوا۔ طالبان نمائندے کا غزنوی کے مزار پر جانا تھا کہ بھارتی میڈیا اور سخت گیر عناصر کی چیخیں ساتوں آسمان تک بلند ہونے لگیں۔ یوں لگ رہا تھا
کہ افغان نمائندے نے بھارت کی دْم پر پائوں رکھ دیا ہے۔ بھارتی میڈیا چیخ رہا تھا کہ اب جمال الدین افغانی کے پین اسلام ازم کے تصورات کو عملی شکل دینے کا وقت آگیا ہے اور بھارت کو پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ مہمات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ نجانے کیا ہوا طالبان اچانک محمود غزنوی کے مزار سے سومناتھ کی طرف چل پڑے۔ یہ وہ مقام جہاں سطحی جذباتیت اور سرکاری بیانیہ سازی سے ہٹ کر ان اسباب وعوامل کا عمیق جائزہ لینا ضروری ہے کہ طالبان غزنوی کے مزار سے سومناتھ کی طرف کیوں چل پڑے؟
گزشتہ دو تین برسوں میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو مساوی بنیادوں پر سنجیدگی سے حل کرنے کی کوششیں نہیں ہوئیں۔ جس سے طالبان اور پاکستان کے تعلقات میں ایک خلا پیدا ہوا اور اس خلا کو بھارت نے اپنے ماضی کے موقف سے مکمل یوٹرن لیتے ہوئے پْر کر لیا۔ بنگلا دیش میں پاکستان کو کچھ اسپیس دے کر افغانستان سے لڑانے کا کامل بندوبست کیا گیا۔ بنگلا دیش پڑوسی کا پڑوسی ہے اور اسی معاملے میں پاکستان کے قریب آیا ہے۔ افغانستان پڑوسی ہے اور پڑوسی کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔ طالبان پاکستان کا آخری آپشن تھے کچھ قوتوں کی خواہش ہو گی کہ پاکستان ان سے ترک تعلقات کرکے ازبک تاجک اور قوم پرست پشتون لیڈروں کو اعتبار اور وقار دینے دے کر اپنے خوابوں کی قیمت چکائے۔ ایسا عین ممکن ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ انہیں اعتبار عطا کر سکیں مگر جس دن انہیں اعتبار مل گیا تو ان میں طالبان کی روح حلول کر جائے گی کیونکہ مسئلہ باہر کے بجائے اندر کی پالیسیوں میں ہے جو استحکام اور پاکستان کی داخلی ضرورت کے احساس سے عاری ہیں۔ امیر ِ کارواں میں خوئے دلنوازی کسی بازار میں دستیاب نہیں ہوتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان اور افغانستان افغانستان میں غزنوی کے مزار میں پاکستان دوست حکومت پاکستان کا خوابوں کا کی تعبیر اور اس کے لیے ہے اور
پڑھیں:
جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
سٹی 42: علیمہ خانم نے فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے
علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔
جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔
بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔
افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،
ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز