پولیس والوں نے گاڑی سے اتار کر تھپڑ مارے، ابراہیم کی لاش نکالنے والے خاکروب کا بیان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
کراچی: نیپا چورنگی پر مین ہول میں گرنے والے بچے ابراہیم کی لاش تلاش کرنے والے خاکروب نے پولیس کے تشدد کا انکشاف کیا ہے۔
کراچی کے علاقے نیپا چورنگی پر مین ہول میں گرنے والے 3 سالہ ابراہیم کی لاش تلاش کرنے والے خاکروب نے انکشاف کیا کہ اسے پولیس والوں نے تھپڑ مارے۔
اتوار کی رات 11 بجے کے قریب گلشن اقبال نیپا چورنگی کے نزدیک کمسن بچہ کھلے مین ہول میں گرگیا تھا جس کے بعد ریسکیو اہلکاروں نے بچے کی تلاش شروع کی تاہم وہ رات کے اوقات میں ناکام رہے ۔
بعد ازاں ریسکیو آپریشن کو عارضی طور پر روک دیاگیا، ریسکیو آپریشن رکنے کے بعد لوگوں نے اپنی مدد آپ کےتحت ہیوی مشینری منگوائی اور جائے وقوعہ پر کھدائی کی گئی۔
ریسکیو حکام کے مطابق بچے کی لاش 14 گھنٹے بعد نالے سے خاکروب نے جائے وقوعہ سے تقریباً ڈیڑھ کلو میٹر دور نالے سے تلاش کی گئی۔
خاکروب کا بیان:
نوجوان خاکروب نے بتایا ’میں نے بچے کو ڈھونڈ کر ایک انکل کو دیا، پولیس والوں نے پوچھا تم کون ہو جس پر میں نے کہا میں نے ڈھونڈا ہے، پولیس والوں نے تھپڑ مارے اور گاڑی سے اتار دیا‘۔
دوسری جانب علاقہ کونسلر نے کہا کہ ’بچے (خاکروب) نے ابراہیم کو تلاش کرکے گاڑی میں ڈالا اور گھر والوں کے حوالے کیا، بچے کو کریڈٹ جاتا ہے کیونکہ ایک رات سے واٹر بورڈ کے ادارے لگے ہوئے تھے، انہیں یہ ہی نہیں پتا کہ کون سی لائن کہاں جارہی ہے‘۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پولیس والوں نے خاکروب نے کی لاش
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک