سری لنکا : بدترین سمندری طوفان ‘ پاکستان کے یلیف آپر یشن میں بھارتی حکومت کی تنگ نظری اور دشمنی حائل
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے +نوائے وقت رپورٹ) سری لنکا میں بدترین سمندری طوفان کے سبب پاکستان کے ریلیف آپریشن کی راہ میں بھارتی حکومت کی تنگ نظری اور پاکستان دشمنی حائل ہوگئی، بھارت نے پاکستان کے امدادی طیارے کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ بھارتی حکومت اپنی فضائی حدود کی بندش کرکے سری لنکا میں پاکستان کے ریسکیو آپریشن میں حائل ہوگئی، سمندری طوفان ڈٹوہ نے 28 نومبر کو سری لنکا کے ساحلی علاقوں میں تباہی مچا دی، سری لنکا میں سمندری طوفان ڈٹوہ کے باعث کئی افراد ہلاک اور زخمی جبکہ ایک بڑی تعداد بے گھر ہوچکی ہے۔ حکومت پاکستان اور عوام اس مشکل گھڑی میں اپنے سری لنکن بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں، سمندری طوفان کے بعد وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی پاکستان کی جانب سے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی خصوصی ہدایات کی گئی ہیں۔ پاک فوج کی 45 رکنی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم این ڈی ایم اے اور پاک فضائیہ کی مدد سے سی 130 طیارے کے ذریعے سری لنکا روانگی کیلئے تیار ہے، سری لنکا بھیجی جانے والی ریسکیو ٹیم ترکیہ میں بھی ناگہانی آفت کے دوران اپنے فرائض بخوبی سرانجام دے چکی ہے۔ بھارت نے اس انسانی ہمدردی کے مشن کے لیے فضائی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ این ڈی ایم اے نے 100 ٹن صلاحیت والے تجارتی کارگو طیاروں کے ذریعے امداد بھیجوانے کی بھی کوشش کی۔ ان طیاروں کی روانگی بھی بھارتی فضائی حدود کی بندش سے مشروط ہونے کے باعث سست روی کا شکار ہے۔ پاکستان کی امدادی کھیپ اور ریسکیو ٹیم کو متبادل راستہ اختیار کرنا پڑے گا جس کیلئے زیادہ وقت درکار ہے۔ بھارتی فضائی حدود کی بندش کے باعث 100 ٹن امدادی سامان بحری راستے سے 8 دن میں سری لنکا پہنچے گا۔ امدادی سامان میں ریسکیو کشتیاں، پمپس، لائف جیکٹس، ٹینٹ، کمبل، دودھ، خوراک اور ادویات شامل ہیں۔
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) پاک بحریہ کی امدادی سرگرمیاں سری لنکا میں تیسرے روز بھی جاری رہیں۔ ترجمان پاک بحریہ کے مطابق امدادی کارروائیوں کے دوران پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس سیف پر تعینات Z-9 ہیلی کاپٹر نے متاثرہ علاقے کوٹکاواتا میں ریسکیو مشن انجام دیا۔ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران پانچ روز سے پھنسے ایک خاندان جن میں سات ماہ کا بچہ بھی شامل تھا، کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ بعد ازاں تمام متاثرین کو مقامی حکام کے تعاون سے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس ریسکیو آپریشن کی کامیاب تکمیل پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے عزم کا واضح ثبوت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سمندری طوفان سری لنکا میں پاک بحریہ
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔