سری لنکا میں 5 روز سے پھنسے خاندان کو پاک بحریہ نے کامیابی سے ریسکیو کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کولمبو: سری لنکا میں شدید طوفان کے بعد پاک بحریہ کی امدادی کارروائیاں تیسرے روز بھی جاری رہیں، جن کے دوران پھنسے ہوئے خاندانوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، سیلاب متاثرہ سری لنکا میں پاک بحریہ کے جہاز سیف پر موجود ہیلی کاپٹر نے پانچ دن سے پھنسے ہوئے ایک خاندان کو ریسکیو کیا، جس میں سات ماہ کا بچہ بھی شامل تھا۔
ترجمان آئی ایس پی آر نے بتایا کہ مقامی انتظامیہ کے تعاون سے عملے نے اونچے سیلابی پانی میں گھرے متاثرین کو گھروں کی چھتوں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
مشکل موسمی حالات اور شدید سیلاب کے باوجود ریسکیو آپریشن کامیابی سے جاری رہا۔ جہاز سیف اپنی تعیناتی کے دوران مختلف امدادی سرگرمیاں سرانجام دے رہا ہے، جن میں ریسکیو، ریلیف اور طبی معاونت شامل ہیں۔
ترجمان پاک بحریہ نے کہا کہ یہ انسانی ہمدردی پر مبنی کوششیں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دیرینہ دوستی، علاقائی یکجہتی اور باہمی تعاون کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتی ہیں، اور ضرورت مندوں کی ہر ممکن مدد کو یقینی بنانے کا عزم ظاہر کرتی ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔