کراچی: گٹر میں گرا 3 سالہ بچہ 10 گھنٹے گزرنے کے باوجود نہ مل سکا، شہری مشتعل، سڑک بند
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
کراچی میں گٹر میں گرنے والا بچہ 10 گھنٹے گزرنے کے باوجود نہ مل سکا، شہری سراپا احتجاج بن گئے، سڑک بلاک کر دی۔ کراچی کے علاقے گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب کمسن بچہ کھلے مین ہول میں گرگیا تھا، واقعہ رات 11 بجے کے قریب پیش آیا، ریسکیو اہلکاروں نے بچے کی تلاش شروع کی تاہم ناکام رہے جس کے بعد ریسکیو آپریشن کو عارضی طور پر روک دیاگیا۔ اس حوالے سے ریسکیو حکام نے بتایا کہ ان کے پاس کھدائی کے لیے مشینری نہیں، کسی ادارے کی طرف سے مشینری نہیں ملی، کسی بھی سرکاری ادارے کا افسر اس وقت موجود نہیں ہے، شروع میں کام کرنے والی مشینری بھی چلی گئی۔ ریسکیو آپریشن رکنے کے بعد لوگوں نے اپنی مدد آپ کےتحت ہیوی مشینری منگوائی، جائے وقوعہ پر ہیوی مشینری کےذریعے کھدائی جاری ہے۔ کھلے مین ہول میں گرنے والے بچےکی شناخت 3 سال کے ابراہیم ولد نبیل کےنام سے ہوئی، ابراہیم فیملی کے ہمراہ ڈیپارٹمنٹل سٹور میں شاپنگ کرنے آیا تھا۔ بچے کے والد کا کہناہےکہ شاپنگ کرکے نکلے تو بیٹا ہاتھ چھڑا کربھاگا، موٹر سائیکل مین ہول کے قریب پارک تھی، بیٹا آنکھوں کےسامنےگٹرمیں گرا، مین ہول پرڈھکنا نہیں تھا۔ بچے کے دادا محمود الحسن نے بتایا کہ بچے کا والد موٹرسائیکل کھڑی کر رہا تھا، بچہ والد کے پیچھےآیا تو کھلےہوئے مین ہول میں گرگیا۔ انہوں کا کہنا تھا کہ ابراہیم والدین کا اکلوتا بیٹا ہے، ریسکیو کے کام سےمطمئن نہیں، انہوں نے مزید مشینری بھیجنے اور تلاش کا کام تیز کرنے کا مطالبہ کردیا۔ لاپتہ بچے کی ماں کا رو رو کر برا حال ہے، وقوعہ کے بعد بچے کی والدہ کی حالت غیر ہوگئی۔ نیپا چورنگی پر شہریوں نے احتجاج شروع کردیا اور ٹائر جلا کر سڑک بلاک کردی۔ مشتعل افراد نے نیپا چورنگی سے حسن سکوائر جانے والی سڑک بند کردی، نیپا سےجامعہ کراچی اور گلشن چورنگی جانے والی سڑک بھی بند کردی گئی۔ مشتعل افراد کی جانب سے پتھراؤ بھی کیا گیا، میڈیا پر بھی حملہ کیا گیا، نجی چینلز کی گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ مشتعل افراد نے کہا کہ رات سے میڈیا موجود ہے، پھر بھی انتظامیہ یہاں کیوں نہیں پہنچی، انتظامیہ پوری رات نہیں آئی، میڈیا کا کیا فائدہ؟ دنیا نیوز کی ٹیم کو اس موقع پر یرغمال بھی بنایا گیا۔۔ دوسری جانب ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے کہاکہ انکوائری شروع کردی ہےکہ مین ہول کا ڈھکن کیوں نہیں تھا جس کی بھی غفلت ہوگی اس کےخلاف کارروائی کی جائےگی۔ ڈپٹی میئرکراچی سلمان مراد نے بھی واقعہ کا نوٹس لے لیا اور کہا کہ تمام ریسکیو اداروں کو الرٹ کردیا ہے، بچے کو جلد از جلد تلاش کرنےکی ہدایت کی ہے، ریسکیو ٹیمیں اور کے ایم سی عملہ موقع پر موجود ہے، واٹر کارپوریشن اور سندھ سالٹ ویسٹ کا عملہ بھی موجود ہے۔ خیال رہے کہ رواں سال شہر قائد میں 24 افراد کھلے مین ہول اور نالوں کی نذر ہو کر جان کی بازی ہار گئے، جاں بحق ہونے والوں میں 19 مرد اور 5 بچے شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مین ہول
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ریسکیو 1122 نے صوبے بھر میں اپنی تمام ضلعی ٹیموں کو ہائی الرٹ کردیا ہے۔
ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی کے مطابق خراب موسمی صورتحال کے باعث ضلع بنوں کے مختلف علاقوں میں اب تک 20 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ مردان، پشاور اور دیگر اضلاع میں بھی آندھی اور تیز ہواؤں کے باعث متعدد ایمرجنسی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
پشاور کے مختلف مقامات پر درخت گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں رکاوٹیں ہٹانے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
بلال احمد فیضی نے کہا کہ ریسکیو 1122 کی تمام ضلعی ٹیمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بارش تیز ہوائیں خیبرپختونخوا زخمی وی نیوز