Jasarat News:
2026-07-24@08:26:16 GMT

نواز شریف صاحب پورا سچ بولیے!

اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251202-03-6
مسلم لیگ نون کے صدر اور پاکستان کے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے سیاسی رہنما نواز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان صرف اکیلا مجرم نہیں تھا اس کو لانے والے اس سے بڑے مجرم تھے ان سے بھی پورا پورا حساب لینا چاہیے، 2017 میں ملک تیزی سے ترقی کر رہا تھا انہوں نے ملک کا دیوالیہ نکال دیا، ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا تھا، ترقی کی رفتار جاری رہتی تو آج دنیا میں ہمارا ایک مقام ہوتا، شہباز شریف اور مریم نواز تو مجھ سے بھی آگے نکل گئے ہیں، شہباز شریف اور مریم نواز بہت اچھے کام کر رہے ہیں، میں خوش ہوں یہ مجھ سے اور زیادہ آگے نکل جائیں گے، انہوں نے کہا کہ شہباز شریف بہت اچھا پیار کرنے والا بھائی ہے مجھ سے جو مدد ہوتی ہے وہ کرتا ہوں، عوام نے کارکردگی کی بنیاد پر ہمیں ووٹ دیا ہے۔ نواز شریف طویل عرصے خاموشی کے بعد بولے ہیں انہوں نے سچ کہا ہے لیکن آدھا سچ کہا ہے انہیں پورا سچ بولنا چاہیے کہ عمران خان کو لانے والے، نواز شریف کو پہلی بار وزیر خزانہ پنجاب بنانے والے، نواز شریف کو پہلی مرتبہ وزیراعظم بنانے والے، شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے والے، مریم نواز شریف کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے والے ہم سب سیاست دانوں سے زیادہ بڑے مجرم ہیں اور ان سے پورا پورا حساب لینا چاہیے بلکہ لینا چاہیے کیا معنی، آپ کا بہت اچھا پیار کرنے والا بھائی شہباز شریف ملک کا وزیراعظم ہے، وزارت دفاع اور وزارت عدل و قانون اسی کے ماتحت ہے ہر لمحے آپ کی تعریفیں کرنے والی آپ کی بیٹی مریم نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب ہے، راولپنڈی ڈویژن پنجاب کا ہی حصہ ہے، آپ ذرائع ابلاغ پر کہنے کے بجائے ان دونوں کو حکم دیں کہ غیر قانونی اور غیر غیر آئینی اقدامات کرنے والے تمام جرنیلوں اور ججوں کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کیا جائے اور ان سے پورا پورا حساب لیا جائے، اب تو حکومت کو دو تہائی اکثریت بھی حاصل ہو چکی ہے اگر آج حساب نہ لیا گیا تو کب لیا جائے گا۔

نواز شریف کا یہ کہنا کہ 2017 میں ملک تیزی سے ترقی کر رہا تھا ترقی کی رفتار جاری رہتی تو آج دنیا میں ہمارا ایک مقام ہوتا، آدھا سچ بھی نہیں ہے، 2017 میں عوام کا جو حال تھا وہ انہیں خوب یاد ہے لوگوں کو خوراک تک کم کرنا پڑی تھی بجلی کے بلوں نے بے شمار چھوٹے بڑے کارخانے بند کرا دیے تھے برآمدات ختم ہو کر رہ گئی تھیں بے روزگاری بہت بڑھ گئی تھی بے شمار عزت دار لوگ بھی دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلا نے پر مجبور ہو گئے تھے۔ جب عمران خان کی حکومت ختم کی گئی اس کے بعد کافی عرصے تک عمران خان بھی یہی راگ الاپتے رہے جو آپ آج الاپ رہے ہیں بلکہ وہ تو ان سرکاری رپورٹوں کا حوالہ بھی دیتے رہے جو شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کے بعد شائع ہوئیں اور ان میں ملکی ترقی کے بڑے بڑے اعداد وشمار دیے گئے تھے سرکاری اعداد وشمار کے لحاظ سے شاید آپ کے دور میں بھی ترقی ہو رہی ہو لیکن عوام کے لیے دونوں ہی ادوار بھیانک ثابت ہوئے۔ شریف خاندان کی روایت کے مطابق نواز شریف نے اپنے بھائی وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی دل کھول کر تعریف کی اور کہا کہ یہ دونوں تو مجھ سے بھی آگے نکل جائیں گے۔ پتا نہیں خود کو فریب دیا جا رہا ہے یا قوم کو! یہاں کراچی کے بیش تر علاقوں میں پانی ہے نہ بجلی گیس ہے نہ صفائی کا مناسب انتظام، کبھی اسے روشنیوں کا شہر کہتے تھے اب اندھیروں کا شہر کہنا چاہیے، گلیوں، محلوں کو تو چھوڑیے بڑی شاہراہیں تک اندھیرے میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہیں، تھوڑی بہت روشنی ہوتی ہے تو دکانیں کھلی ہونے کی وجہ سے ہوتی ہیں، دکانیں بند ہونے کے بعد کچھ سجھائی نہیں دیتا۔

پنجاب کی ترقی کے دعوے ٹی وی چینلوں اور اخبارات کے اشتہارات میں مسلسل نظر آتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ پنجاب، پختون خوا، بلوچستان سے ہر روز بسیں آتی ہیں جو ان غریبوں سے بھری ہوتی ہیں جو روزی روٹی کی تلاش میں اپنے حسین شہروں اور دیہات کو چھوڑ کر کراچی میں قسمت آزمانے کے لیے آتے ہیں اگر انہیں اپنے شہروں اور دیہات میں روزگار میسر ہو تو کیا وہ اپنے ماں باپ بھائی بہن بیوی بچوں کو چھوڑ کر کراچی آتے ؟ ہرگز نہیں آتے شدید مجبوری نہ ہو تو کوئی اپنے پیاروں کو نہیں چھوڑتا، دوسری جانب کراچی سمیت پاکستان کے ہر شہر اور گاؤں سے تعلیم یافتہ اور ان پڑھ بے شمار لوگ ملک سے باہر جا کر قسمت آزمانا چاہتے ہیں، بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جو معاشی حالات نہیں سماجی عدل کے فقدان، عزت نفس کی پامالی کے باعث ملک کو ہمیشہ کے لیے ہی خیر باد کہہ دینا چاہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جن ملکوں کے عوام سب سے زیادہ دوسرے ممالک کا رُخ کر رہے ہیں پاکستان ان میں سر فہرست آچکا ہے۔ آخر میں میاں نواز شریف نے جو کہا ہے کہ عوام نے کارکردگی کی بنیاد پر انہیں ووٹ دیا ہے یہ اس قدر مضحکہ خیز بات ہے کہ اس پر کیا تبصرہ کیا جائے کسی طول طویل بحث میں پڑے بغیر ہی میاں صاحب کو نتائج آنے کے بعد شائع اور نشر ہونے والی اپنی ہی تصاویر اور فوٹیجز دیکھ لینی چاہییں کہ ان کے چہرے کے تاثرات کیا کہہ رہے ہیں، ان کا چہرہ کہہ رہا تھا کہ مسلم لیگ نون ہار گئی ہے نہ صرف ہار گئی ہے بلکہ بری طرح ہار گئی ہے، جس پر انہیں بھی شرمسار ہونا چاہیے تھا اور ان کے مددگاروں کو بھی لیکن افسوس شرمسار جیتنے والوں کو کیا گیا۔ اب آئین میں ترامیم کر کے ایسا مستحکم نظام قائم کر دیا گیا ہے کہ:

نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے
ہے اہل دل کے لیے اب یہ بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں

سوائے اس نظام سے فائدہ اٹھانے والوں کے ہر طبقہ فکر اور ہر فرد نے 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کی سخت مخالفت کی اسے جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی کے لیے زہر قاتل قرار دیا لیکن حکومت میں شامل جماعتوں کے سر پر جوں تک نہ رینگی بلکہ اب وہ 28 ویں ترمیم لانے کا بھی اعلان کر رہے ہیں اور پچھلی دونوں ترامیم کی طرح اس مرتبہ بھی قانون دانوں اور عوام تو درکنار خود ارکان پارلیمان تک کو کچھ نہیں بتایا جارہا کہ آئین کہ کن آرٹیکلز میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں اور کس لیے کی جا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے بیان پر پاکستان کے دفتر خارجہ کے جوابی بیان سے پتا چلا ہے کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے بھی ان ترامیم پر نکتہ چینی کی ہے، دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی پارلیمان کی منظورکردہ آئینی ترمیم پر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کی تشویش ناقابل فہم ہے، آئینی ترامیم عوامی نمائندوں کا اختیار ہے، جمہوری طریقہ کار کا احترام ہونا چاہیے دفتر خارجہ کے بیان پر ہمارا تبصرہ یہ ہے کہ ان ترامیم پر دنیا بھر کو تشویش اسی لیے تو ہے کہ آئین میں ترمیم کرنا عوامی نمائندوں کا اختیار ہے پارلیمنٹ میں بٹھائے گئے لوگ یہ اختیار کیوں استعمال کر رہے ہیں؟

احمد حسن سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بنانے والے شہباز شریف کر رہے ہیں نواز شریف مریم نواز شریف کو ہیں اور ہے کہ ا اور ان کہا ہے تے ہیں کے بعد کے لیے

پڑھیں:

وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم

سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری  وفد کی ملاقات،وزیر اعظم  نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے  پاک چین  دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا

وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے  سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔ 

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 اس منصوبے سے  ملک میں  زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور  تربیت کو ان منصوبوں  کا حصہ بنایا جائے۔

 جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو  نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی  ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے  پر بات چیت کی جارہی ہے۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں

ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر  اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی  کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ 

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف