خالد خورشید کے ساتھ موجود الیکٹیبلز جلد ریت کی طرح پھسل جائیں گے، اشرف صدا
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
نون لیگ گلگت بلتستان کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ہم الیکشن کمیشن، صوبائی انتظامیہ اور تمام سول و عسکری ادروں سے گزارش کرتے ہیں کہ موصوف کو آئین اور قانون کے عین مطابق الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو۔ اسلام ٹائمز۔ صوبائی ترجمان مسلم لیگ نون و سابق چیئرمین قائمہ کمیٹی گلگت بلتستان کونسل محمد اشرف صدا نے سابق وزیر اعلی خالد خورشید کے حالیہ ویڈیو بیان کے ردعمل میں جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ خالد خورشید گنڈا پوری شہد کے عشق میں مبتلا ہیں، اس لیے پشاور میں مقیم ہے، وہ اک نادان اور حادثاتی وزیر اعلیٰ ہیں۔ جس نے گلگت بلتستان کے قومی اور عوامی وسائل کو بنی گالہ اور زمان پارک کی عیاشیوں پر صرف کر کے قومی خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ جعلی ڈگری میں عہدے سے ہاتھ دھونے کے بعد پشاور میں بیٹھ کے خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں۔ مسلم لیگ نون گلگت بلتستان کا سینٹرل سکریٹریٹ صوبے کا وہ واحد سیاسی دفتر ہے جو کزشتہ چالیس سالوں سے بلا تعطل عوامی، سیاسی اور جماعتی خدمت میں مصروف ہے۔ خالد خورشید اپنی بچی کھچی سیاسی ساکھ کو بچانے اور اپنے ساتھ موجود چند انتخابی امیدواروں کو سبز خواب دکھا کر خود کو مکمل تنہا ہونے سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گنڈا پور، زلفی بخاری اور سیف اللہ نیازی کے کندھے پر چڑھ کر وزیر اعلیٰ بننے والا بے وقوف اور مغرور انسان نے گلگت بلتستان کی سیاست اور سیاسی نظام کو بند گلی میں داخل کیا۔ آج احسن اقبال اور حفیظ الرحمان پر بلاجواز غیر پارلیمانی زبان میں تنقید کر کے سوشل میڈیا پر زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ اشرف صدا نے کہا ہے کہ ہم گلگت بلتستان میں حصول اقتدار کو قطعی طور پر پہلی ترجیح نہیں سمجھتے۔ ہمارے پیش نظر اقتدار کی کرسی سے زیادہ گلگت بلتستان کے گھمبیر انتظامی، عوامی، سیاسی، تعلیمی اور نوجوانوں میں اعتماد کی بحالی کے مسائل زیادہ سنجیدہ ہیں۔ اسی سنجیدگی کے تناظر میں صوبائی حکومت کے خاتمے کے فوری بعد دو اہم وفاقی وزراء پروفیسر احسن اقبال اور انجینئر امیر مقام گلگت کے دورے پہ آئے۔ اس دورے میں دونوں وفاقی وزراء کے ساتھ گلگت بلتستان کے اہم جملہ مسائل کے حل کے لیے مکمل روڈ میپ پر کام کا آغاز ہو چکا ہے۔
اشرف صدا نے کہا ہے کہ جو جماعت ماضی میں مکمل عسکری جہاز میں سوار ہو کر وزیر اعظم ہاؤس اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان تک پہنچی وہ آج ہمیں عسکری بیٹری پر چلنے کا طعنہ دے رہے ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ آج وفاق سمیت پورے پاکستان میں حکومت اور عسکری ادارے ملک کی ترقی، دفاع، اندرونی و بیرونی سازشوں سے نمٹنے کے لیے ایک پیج پر ہیں اور ہر آئینی ادارہ اپنے اپنے دائرے میں رہ کر ملکی استحکام کے لیے کوشاں ہے۔ خالد خورشید کا گلگت بلتستان واپسی کا اعلان خوش آئند ہے۔ ہم الیکشن کمیشن، صوبائی انتظامیہ اور تمام سول و عسکری ادروں سے گزارش کرتے ہیں کہ موصوف کو آئین اور قانون کے عین مطابق الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو اور موصوف کو بھی پتہ چل جائے کہ گنڈا پور، زلفی بخاری، سیف اللہ نیازی اور عسکری سیمنٹ کے بغیر اقتدار حاصل کرنا اور سیاسی بقا کی جنگ لڑنا کتنا مشکل ہے۔
اشرف صدا نے کہا کہ خالد خورشید کو چیلنج ہے کہ وہ آمدہ الیکشن تک اپنی جماعت کے انتخابی امیدواروں کو دوسری جماعتوں میں شامل ہونے، آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے یا الیکشن سے مکمل دستبردار ہونے سے روک کر دکھائیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے ساتھوں کو سبزباغ دکھانے اور مزید دھوکہ دینے کی بجائے الیکشن کمیشن کی لازی شرط اور تقاضوں کے مطابق گلگت بلتستان میں اپنی جماعت کے انٹرا پارٹی الیکشن کا انعقاد کرے تاکہ گلگت بلتستان کے آمدہ انتخابات میں ان کی سنجیدگی ثابت ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ موجود الیکٹیبلز بہت جلد ان کی مٹھی سے ریت کی طرح پھسل جائیں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہمارا مقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی سے ہوگا اور مسلم لیگ نون عوامی طاقت اور اپنی شاندار کارکردگی کی بنیاد پر دو تہائی اکثریت سے حکومت بنائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان کے خالد خورشید وزیر اعلی کہا ہے کہ کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔