نون لیگ گلگت بلتستان کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ہم الیکشن کمیشن، صوبائی انتظامیہ اور تمام سول و عسکری ادروں سے گزارش کرتے ہیں کہ موصوف کو آئین اور قانون کے عین مطابق الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو۔ اسلام ٹائمز۔ صوبائی ترجمان  مسلم لیگ نون و سابق چیئرمین قائمہ کمیٹی گلگت بلتستان کونسل محمد اشرف صدا نے سابق وزیر اعلی خالد خورشید کے حالیہ ویڈیو بیان کے ردعمل میں جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ خالد خورشید گنڈا پوری شہد کے عشق میں مبتلا ہیں، اس لیے پشاور میں مقیم ہے، وہ اک نادان اور حادثاتی وزیر اعلیٰ ہیں۔ جس نے گلگت بلتستان کے قومی اور عوامی وسائل کو بنی گالہ اور زمان پارک کی عیاشیوں پر صرف کر کے قومی خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ جعلی ڈگری میں عہدے سے ہاتھ دھونے کے بعد پشاور میں بیٹھ کے خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں۔ مسلم لیگ نون گلگت بلتستان کا سینٹرل سکریٹریٹ صوبے کا وہ واحد سیاسی دفتر ہے جو کزشتہ چالیس سالوں سے بلا تعطل عوامی، سیاسی اور جماعتی خدمت میں مصروف ہے۔ خالد خورشید اپنی بچی کھچی سیاسی ساکھ کو بچانے اور اپنے ساتھ موجود چند انتخابی امیدواروں کو سبز خواب دکھا کر خود کو مکمل تنہا ہونے سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گنڈا پور، زلفی بخاری اور سیف اللہ نیازی کے کندھے پر چڑھ کر وزیر اعلیٰ بننے والا بے وقوف اور مغرور انسان نے گلگت بلتستان کی سیاست اور سیاسی نظام کو بند گلی میں داخل کیا۔ آج احسن اقبال اور حفیظ الرحمان پر بلاجواز غیر پارلیمانی زبان میں تنقید کر کے سوشل میڈیا پر زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ اشرف صدا نے کہا ہے کہ ہم گلگت بلتستان میں حصول اقتدار کو قطعی طور پر پہلی ترجیح نہیں سمجھتے۔ ہمارے پیش نظر اقتدار کی کرسی سے زیادہ گلگت بلتستان کے گھمبیر انتظامی، عوامی، سیاسی، تعلیمی اور نوجوانوں میں اعتماد کی بحالی کے مسائل زیادہ سنجیدہ ہیں۔ اسی سنجیدگی کے تناظر میں صوبائی حکومت کے خاتمے کے فوری بعد دو اہم وفاقی وزراء پروفیسر احسن اقبال اور انجینئر امیر مقام گلگت کے دورے پہ آئے۔ اس دورے میں دونوں وفاقی وزراء کے ساتھ  گلگت بلتستان کے اہم جملہ مسائل کے حل کے لیے مکمل روڈ میپ پر کام کا آغاز ہو چکا ہے۔

اشرف صدا نے کہا ہے کہ جو جماعت ماضی میں مکمل عسکری جہاز میں سوار ہو کر وزیر اعظم ہاؤس اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان تک پہنچی وہ آج ہمیں عسکری بیٹری پر چلنے کا طعنہ دے رہے ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ آج وفاق سمیت پورے پاکستان میں حکومت اور عسکری ادارے ملک کی ترقی، دفاع، اندرونی و بیرونی سازشوں سے نمٹنے کے لیے ایک پیج پر ہیں اور ہر آئینی ادارہ اپنے اپنے دائرے میں رہ کر ملکی استحکام کے لیے کوشاں ہے۔ خالد خورشید کا گلگت بلتستان واپسی کا اعلان خوش آئند ہے۔ ہم الیکشن کمیشن، صوبائی انتظامیہ اور تمام سول و عسکری ادروں سے گزارش کرتے ہیں کہ موصوف کو آئین اور قانون کے عین مطابق الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو اور موصوف کو بھی پتہ چل جائے کہ گنڈا پور، زلفی بخاری، سیف اللہ نیازی اور عسکری سیمنٹ کے بغیر اقتدار حاصل کرنا اور سیاسی بقا کی جنگ لڑنا کتنا مشکل ہے۔

اشرف صدا نے کہا کہ خالد خورشید کو چیلنج ہے کہ وہ آمدہ الیکشن تک اپنی جماعت کے انتخابی امیدواروں کو دوسری جماعتوں میں شامل ہونے، آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے یا الیکشن سے مکمل دستبردار ہونے سے روک کر دکھائیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے ساتھوں کو سبزباغ دکھانے اور مزید دھوکہ دینے کی بجائے الیکشن کمیشن کی لازی شرط اور تقاضوں کے مطابق گلگت بلتستان میں اپنی جماعت کے انٹرا پارٹی الیکشن کا انعقاد کرے تاکہ گلگت بلتستان کے آمدہ انتخابات میں ان کی سنجیدگی ثابت ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ موجود الیکٹیبلز بہت جلد ان کی مٹھی سے ریت کی طرح پھسل جائیں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہمارا مقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی سے ہوگا اور مسلم لیگ نون عوامی طاقت اور اپنی شاندار کارکردگی کی بنیاد پر دو تہائی اکثریت سے حکومت بنائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گلگت بلتستان کے خالد خورشید وزیر اعلی کہا ہے کہ کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی

بنگلا دیش کے وزیر خارجہ خالد الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس (2026-2027) کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک سخت اور قریبی مقابلے میں قبرص کے امیدوار آندریاس ایس کاکورس کو شکست دی۔

193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں خالد الرحمان نے 99 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف آندریاس کاکورس کو 91 ووٹ ملے۔ انتخاب میں کوئی رکن ملک غیر حاضر یا غیر جانبدار نہیں رہا۔ کامیابی کے لیے 96 ووٹ درکار تھے۔

اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر کا انتخاب ہر سال تمام رکن ممالک کی خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ہر ملک کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔

اگرچہ یہ انتخاب باضابطہ طور پر مسابقتی ہوتا ہے، تاہم عمومی طور پر مختلف علاقائی گروپوں کے درمیان باری باری صدارت کا اصول اپنایا جاتا ہے۔

81 ویں اجلاس کے لیے ایشیا پیسیفک گروپ کو امیدوار نامزد کرنے کا حق حاصل تھا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش اور قبرص کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔

خالد الرحمان ستمبر 2026 میں جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے آغاز پر اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھالیں گے اور ایک سال تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس دوران وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت، عالمی مسائل پر مباحثے کی نگرانی اور رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ادا کریں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی عالمی سفارت کاری میں بنگلا دیش کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کو ایک اہم سفارتی منصب سمجھا جاتا ہے جو عالمی امن، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ کی اصلاحات جیسے اہم معاملات پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خالد الرحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ خالد الرحمان کا وسیع سفارتی تجربہ اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے ان کی وابستگی جنرل اسمبلی کی مؤثر قیادت میں اہم کردار ادا کرے گی۔

Heartiest felicitations to my dear brother, H.E. Dr. Khalilur Rahman, Foreign Minister of Bangladesh on his election as President of the 81st Session of the UN General Assembly.

Having had closely engaged with him, I am confident that his vast diplomatic experience and steadfast…

— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) June 2, 2026

اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور عالمی امن، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی مکالمے کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔

متعلقہ مضامین

  •   جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی
  • جی بی الیکشن:سکردو سےمسلم لیگ ن کو بڑی کامیابی مل گئی
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف