محسن نقوی کا اسلام آباد کے 3 میگا پراجیکٹس کا دورہ، ترقیاتی کام پر اظہار اطمینان
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
اسلام آباد(اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے 3 میگا عوامی منصوبے تکمیل کے قریب ہیں، ٹی چوک فلائی اوور،شاہین چوک انڈر پاس اور فیض آباد انٹرچینج ری ماڈلنگ پراجیکٹس پر کام کی رفتار مزید تیز کر دی گئی اس حوالے سے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ٹی چوک فلائی اوور، شاہین چوک انڈر پاس اور فیض آباد انٹرچینج پراجیکٹس کا دورہ کر کے تینوں منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا اور جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا معائنہ کیا۔انہوں نے تینوں منصوبوں کے ترقیاتی کاموں کی پیشرفت پر اظہار اطمینان کیا اور فیض آباد انٹرچینج پر ٹریفک روانی کو مزید بہتر بنانے کیلئے لوپ ون اور لوپ ٹو کو تین لین کرنے کی ہدایت کی۔محسن نقوی نے پراجیکٹس کی خوبصورتی بڑھانے کیلئے دونوں اطراف لینڈ سکیپنگ اور لائٹس لگانے کی ہدایت بھی جاری کیں۔اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرنے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں، پراجیکٹس کی تکمیل سے ٹریفک روانی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ ٹریفک دباو کم ہوگا اور شہریوں کو آمدورفت میں سہولت ملے گی، ٹی چوک فلائی اوور سے جڑواں شہروں اور پنجاب سے آنے والے مسافر بھی مستفید ہوں گے۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے وزیر داخلہ کو تینوں منصوبوں پر پیشرفت بارے تفصیلی بریفنگ دی۔دوران بریفنگ بتایا گیا کہ ٹی چوک فلائی اوور منصوبے کا تقریباً 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، دسمبر کے اوائل میں ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے گا،ٹی چوک فلائی اوور منصوبے کے پائلز کیپ اور گرڈرز کاسٹنگ کا 100 فیصد جبکہ حفاظتی دیواروں کا 75 فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے۔بریفنگ میں کہا گیا کہ شاہین چوک انڈر پاس کے 70 گرڈرز کی لانچنگ مکمل ہوگئی، باقی گرڈرز کا کام جلد مکمل کیا جائیگا، منصوبے کے ریمپ ون اور ریمپ ٹو کا 100 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔بتایا گیا کہ فیض آباد انٹرچینج پراجیکٹ پولز فاؤنڈیشن مکمل کئے جا چکے ہیں،آر سی سی والز مکمل جبکہ اسفالٹ کا کام جاری ہے۔ممبران سی ڈی اے، ڈپٹی کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور دیگر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: فیض ا باد انٹرچینج ٹی چوک فلائی اوور محسن نقوی
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔
وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔
اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ