امریکا واشنگٹن فائرنگ کی بنیاد پر پناہ گزینوں کا داخلہ نہ روکے:اقوام متحدہ کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک :اقوام متحدہ نے امریکا سے اپیل کی ہے کہ واشنگٹن فائرنگ واقعے کی بنیاد پر پناہ گزینوں کا داخلہ نہ روکا جائے۔
خبر ایجنسی کے مطابق ترجمان یو این نے کہا قانونی طریقہ کار کے تحت پناہ گزینوں کو امریکا میں داخلے کی اجازت دی جائے، پناہ گزین بین الاقوامی قوانین کے تحت تحفظ کے حقدار ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے افغان پاسپورٹ رکھنے والے تمام افراد کے ویزے معطل کر دیے ہیں، صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں نیشنل گارڈ اہلکار پر حملے کے بعد سخت ترین امیگریشن اقدامات کا اعلان کیا تھا۔
طیاروں کے سافٹ ویئر میں سنگین خرابی، عالمی پروازیں معطل
امریکی ادارہ برائے شہریت و امیگریشن سروسز کا کہنا تھا کہ بائیڈن دور میں امریکا آئے غیر ملکیوں کی جانچ پڑتال ہوگی، افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستوں کی پروسیسنگ فوری روک دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :