امریکا واشنگٹن فائرنگ کی بنیاد پر پناہ گزینوں کا داخلہ نہ روکے:اقوام متحدہ کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک :اقوام متحدہ نے امریکا سے اپیل کی ہے کہ واشنگٹن فائرنگ واقعے کی بنیاد پر پناہ گزینوں کا داخلہ نہ روکا جائے۔
خبر ایجنسی کے مطابق ترجمان یو این نے کہا قانونی طریقہ کار کے تحت پناہ گزینوں کو امریکا میں داخلے کی اجازت دی جائے، پناہ گزین بین الاقوامی قوانین کے تحت تحفظ کے حقدار ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے افغان پاسپورٹ رکھنے والے تمام افراد کے ویزے معطل کر دیے ہیں، صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں نیشنل گارڈ اہلکار پر حملے کے بعد سخت ترین امیگریشن اقدامات کا اعلان کیا تھا۔
طیاروں کے سافٹ ویئر میں سنگین خرابی، عالمی پروازیں معطل
امریکی ادارہ برائے شہریت و امیگریشن سروسز کا کہنا تھا کہ بائیڈن دور میں امریکا آئے غیر ملکیوں کی جانچ پڑتال ہوگی، افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستوں کی پروسیسنگ فوری روک دی گئی ہے۔
.ذریعہ: City 42
پڑھیں:
وائٹ ہاؤس فائرنگ کیس میں بڑی پیش رفت، افغان حملہ آور کے گھر سے اہم شواہد برآمد
واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز کے اہلکاروں پر فائرنگ کے معاملے میں تفتیش مزید آگے بڑھ گئی ہے۔
امریکی تفتیش کاروں نے مشتبہ حملہ آور اور اس سے منسلک افغان شہریوں کے گھروں پر چھاپے مار کر متعدد مقامات کی تلاشی لی ہے۔
ایف بی آئی نے ریاست واشنگٹن اور سان ڈیاگو میں کارروائی کرتے ہوئے کئی گھروں سے الیکٹرانک آلات، موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور آئی پیڈز قبضے میں لے لیے جن کا تکنیکی تجزیہ جاری ہے۔
ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل کے مطابق گرفتار افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے رشتہ داروں سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے تاکہ فائرنگ کے محرکات کا تعین کیا جاسکے۔ حکام نے بتایا کہ رحمان اللہ اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ واشنگٹن میں مقیم تھا۔
امریکی حکام نے 29 سالہ مشتبہ حملہ آور کی تصویر بھی جاری کر دی ہے اور تصدیق کی ہے کہ وہ ماضی میں افغانستان میں سی آئی اے کے لیے کام کر چکا ہے۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلیف نے کہا کہ رحمان اللہ کو امریکا آنے کی اجازت اسی بنا پر دی گئی تھی۔
دوسری جانب نیشنل گارڈز پر فائرنگ کے بعد امریکا نے افغان باشندوں کی امیگریشن درخواستوں کا عمل غیر معینہ مدت تک روک دیا ہے اور بائیڈن دور میں امریکا داخل ہونے والے ہر غیر ملکی کی دوبارہ جانچ پڑتال کا حکم جاری کر دیا ہے۔