وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا لاہور ایئرپورٹ کا دورہ؛ امیگریشن سسٹمز بہتر بنانے کی ہدایات
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
عرفان ملک:وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور ایئرپورٹ کا طویل دورہ کیا اور مسافروں کے لیے امیگریشن کے عمل کو بہتر بنانے کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لیا۔
وزیر داخلہ نے فیصلہ کیا کہ ایئرپورٹ پر تعینات افسران کی کارکردگی مسلسل مانیٹر کی جائے گی۔ اس کے لیے امیگریشن کاؤنٹرز پر افسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے ایک جدید سسٹم تیار کیا جائے گا، جو مسافروں کے امیگریشن کے عمل، فلائٹ کلیئرنس اور ایئرپورٹ پر چیک اینڈ بیلنس کو مانیٹر کرے گا۔
پاکستان نے افغانستان سے تاجکستان سرحد پر چینی شہریوں پرحملہ بزدلانہ فعل قرار دیدیا
نظام کے ذریعے یہ بھی معلوم ہوگا کہ مسافروں کو امیگریشن کے عمل کو مکمل کرنے میں کتنا وقت لگا، تاکہ بےجا مسافروں کی آف لوڈنگ، سست روی اور دیگر مسائل کا بروقت تدارک ممکن ہو سکے۔
اس اقدام کا مقصد ایئرپورٹ پر مسافروں کی سہولت میں اضافہ اور امیگریشن کے عمل کو تیز اور مؤثر بنانا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: امیگریشن کے عمل
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔