ایران کی سپریم سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری کی اہم اور غیر معمولی دورے پر پاکستان آمد
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری ڈاکٹر علی لاریجانی پاکستان کے تاریخی اور غیر معمولی دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے۔ یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے دیرینہ، مضبوط اور آزمودہ تعلقات کو ایک نئے اسٹریٹجک مرحلے میں لے جانے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ ایرانی سفارت خانہ کے مطابق بدلتے ہوئے عالمی حالات، علاقائی صورتحال اور خطے کے نئے اسٹریٹجک تقاضوں کے پیش نظر پاکستان اور ایران کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط، مربوط اور جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت پہلے سے بڑھ گئی ہے۔ ڈاکٹر لاریجانی کا یہ اہم دورہ اسی سمت میں ایک بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔دورے کے دوران دونوں ممالک کے وفود سیاسی، سیکورٹی، سرحدی انتظام، انسداد دہشت گردی، معاشی تعاون اور علاقائی استحکام سے متعلق امور پر جامع اور نتیجہ خیز بات چیت کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔