وزیر داخلہ کی اسلام آباد ایئرپورٹ پر نوجوان سے دلچسپ گفتگو کی ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اچانک دورے کے دوران روزگار کے لیے بیرون ملک جانے والے نوجوان سے دلچسپ گفتگو کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔
وائرل ویڈیو میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایئرپورٹ پر روکے جانے والے ایک نوجوان کے متعلق امیگریشن اہلکار سے دریافت کرتے ہیں کہ اسکا کیا معاملہ ہے؟ امیگریشن اہلکار بتاتا ہے کہ نوجوان ورک ویزے پر سعودی عرب جا رہا ہے لیکن ڈرائیونگ لائسنس نہیں۔
ویڈیو میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا مسافر کو سمجھاتے ہوئے شفقت بھرا انداز دیکھا جا سکتا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے سوال کیا کہ ڈرائیونگ لائسنس کہاں ہے؟ گاڑی چلانی آتی ہے؟ پاکستان میں ڈرائیونگ لائسنس بنوایا؟ مسافر نے جواب دیا کہ گاڑی چلانی آتی ہے لیکن لائسنس نہیں ہے اور نہ ہی بنوایا۔
محسن نقوی نے کہا کہ آپ ڈرائیونگ کی ملازمت کے لیے وہاں جا رہے ہو لیکن ڈرائیونگ لائسنس ہی نہیں ہے، جس نے آپ کو یہ سب کچھ کروا کر دیا اس نے آپ سے صرف پیسے کھائے ہیں۔
وزیر داخلہ نے نوجوان کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ میرا وعدہ ہے آپ کو سعودی عرب بھیجوں گا لیکن پہلے یہاں ڈرائیونگ لائسنس بنواؤ کیونکہ ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر وہاں جا کر دھکے کھاؤ گے خراب ہو جاؤ گے، کوئی تمھاری بات نہیں سنے گا۔ ڈرائیور کی نوکری ہے اور لائسنس نہیں، وہاں سعودیہ والوں نے آپ کا اچھی طرح ٹیسٹ و امتحان لینا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے اسٹاف کو نوجوان مسافر کی سیٹ ائیرلائن سے کہہ کر ایک ہفتے آگے کروانے اور نمبر لیکر لائسنس بنوا کر دینے کی ہدایت کر دی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے مسافر سے شفقت بھرے انداز کو ایئرپورٹ پر دیگر مسافروں نے بھی سراہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ڈرائیونگ لائسنس
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔