مستنددستاویز ات پر کسی مسافر کو بیروان ملک جانے سے نہیں روکا جائے گا محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
اسلام آبا د(اپنے سٹاف رپورٹر سے+ سٹاف رپورٹر )وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ایجنٹ مافیا پیسوں کے لالچ میں معصوم لوگوں کے مستقبل سے کھیل رہا ہے، ملک کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے، معصوم لوگوں کو ملازمت کا جھانسہ دے کر بیرون ممالک بھجوانے والے ایجنٹوں سے کوئی رعایت نہیں ہو گی۔وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا اچانک دورہ کیا، جو قریبا 2 گھنٹے تک جاری رہا، انہوں نے امیگریشن پراسیس، عملے کی موجودگی اور مسافروں کو درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا، اس دوران انہوں نے بیرونِ ملک سفر کرنے والے مسافروں سے ملاقات کرکے ان کے تجربات اور شکایات بھی سنیں۔محسن نقوی نے 7 نومبر کو ایک مسافر کی جانب سے امیگریشن پر کم عملہ تعینات ہونے کی شکایت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری انکوائری کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے پوری صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے، وزیر داخلہ نے یقین دلایا کہ آئندہ مسافروں کو اس نوعیت کی شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔ انہوں نے ضروری سفری دستاویزات رکھنے والے مسافروں کو بلاجواز روکنے سے گریز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جعلی دستاویزات یا غیر قانونی ذرائع سے سفر کرنے والے مسافر ملک کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں، اور ایسی صورتحال کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔وزیر داخلہ نے ویزا ایجنٹ مافیا کے خلاف بھرپور کریک ڈائون کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایجنٹ مافیا پیسوں کے لالچ میں معصوم لوگوں کے مستقبل سے کھیل رہا ہے، ملازمت کا جھانسہ دے کر بیرونِ ملک بھجوانے والے دھوکا باز ایجنٹوں سے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی، اور بغیر تصدیق شدہ دستاویزات کے سفر کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔محسن نقوی نے متعلقہ اداروں کو سخت ہدایات جاری کیں کہ ایئرپورٹ کے امیگریشن نظام کو مزید موثر، شفاف اور مسافر دوست بنایا جائے تاکہ پاکستان کے امیج اور مسافروں کے اعتماد کو نقصان نہ پہنچے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: محسن نقوی نے
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔