اسلام آبا د(اپنے سٹاف رپورٹر سے+ سٹاف رپورٹر )وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ایجنٹ مافیا پیسوں کے لالچ میں معصوم لوگوں کے مستقبل سے کھیل رہا ہے، ملک کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے، معصوم لوگوں کو ملازمت کا جھانسہ دے کر بیرون ممالک بھجوانے والے ایجنٹوں سے کوئی رعایت نہیں ہو گی۔وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا اچانک دورہ کیا، جو قریبا 2 گھنٹے تک جاری رہا، انہوں نے امیگریشن پراسیس، عملے کی موجودگی اور مسافروں کو درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا، اس دوران انہوں نے بیرونِ ملک سفر کرنے والے مسافروں سے ملاقات کرکے ان کے تجربات اور شکایات بھی سنیں۔محسن نقوی نے 7 نومبر کو ایک مسافر کی جانب سے امیگریشن پر کم عملہ تعینات ہونے کی شکایت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری انکوائری کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے پوری صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے، وزیر داخلہ نے یقین دلایا کہ آئندہ مسافروں کو اس نوعیت کی شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔ انہوں نے ضروری سفری دستاویزات رکھنے والے مسافروں کو بلاجواز روکنے سے گریز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جعلی دستاویزات یا غیر قانونی ذرائع سے سفر کرنے والے مسافر ملک کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں، اور ایسی صورتحال کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔وزیر داخلہ نے ویزا ایجنٹ مافیا کے خلاف بھرپور کریک ڈائون کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایجنٹ مافیا پیسوں کے لالچ میں معصوم لوگوں کے مستقبل سے کھیل رہا ہے، ملازمت کا جھانسہ دے کر بیرونِ ملک بھجوانے والے دھوکا باز ایجنٹوں سے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی، اور بغیر تصدیق شدہ دستاویزات کے سفر کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔محسن نقوی نے متعلقہ اداروں کو سخت ہدایات جاری کیں کہ ایئرپورٹ کے امیگریشن نظام کو مزید موثر، شفاف اور مسافر دوست بنایا جائے تاکہ پاکستان کے امیج اور مسافروں کے اعتماد کو نقصان نہ پہنچے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: محسن نقوی نے

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس