اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان 2 سال میں کرغزستان سے تجارتی حجم 200 ملین ڈالر تک لیجانے کیلئے پُرعزم ہے، دونوں ممالک کے درمیان متعدد اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کئے گئے ہیں۔

وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں کرغزستان اور پاکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشت کے تبادلے کی تقریب ہوئی، جس میں کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف اور وزیراعظم شہباز شریف شریک ہوئے۔

وزیر اعظم شہباز شریف اور کرغزستان کے صدر صادر ژپاروف کے درمیان بشکیک اور اسلام آباد کو جڑواں شہر قرار دینے کا معاہدہ ہوا ہے، پاکستان اور کرغزستان کے درمیان کان کنی اور جیوسائنسز میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا۔

تقریب کے دوران پاکستان فارن سروسز اکیڈمی اور کرغزستان ڈپلومیٹک اکیڈمی کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا جبکہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور کرغزستان کے وزیر خارجہ نے دستاویز کا تبادلہ کیا، دونوں ممالک کے درمیان سیاحت اور توانائی کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا۔

پاکستان اور کرغزستان کے درمیان سزا یافتہ قیدیوں کے تبادلے اور ثقافت کے شعبے میں معاہدہ ہوا ہے، وزارت قانون و انصاف اور کرغزستان کی وزارت انصاف میں مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا۔

وزیراعظم یوتھ پروگرام اور کرغز ثقافت، اطلاعات، کھیل و امور نوجوانان کی وزارت میں مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا۔

پاکستان-کرغزستان بزنس فورم سے معاشی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی: وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف کا کرغزستان کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کرغزستان کے صدر کو پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہیں، پاکستان اورکرغزستان کے درمیان خوشگوار برادرانہ تعلقات ہیں، پاکستان کرغزستان کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرغز صدر صادرژاپاروف کا دورہ دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کیلئے اہمیت کا حامل ہے، پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی جانب سے معزز مہمان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ معزز مہمان صادرژاپاروف دو دہائیوں بعد پاکستان کا دورہ کرنے والے کرغزستان کے صدر ہیں، یہ دورہ مختلف شعبوں میں تعاون کو نئی جہت دینے کیلئے اہمیت کا حامل ہے، 1992 میں سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات پروان چڑھے۔

شہباز شریف نے کہا کہ مذاکرات میں مختلف شعبوں میں تعاون، علاقائی اور عالمی امور پر گفتگو ہوئی، ہم نے تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا ہے، توانائی، تجارت، روابط کے فروغ اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھائیں گے، پاکستان-کرغزستان بزنس فورم سے معاشی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مختلف شعبوں میں تعاون کے 15 معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں اہم پیشرفت ہے، بزنس فورم کے موقع پر تجارت میں اضافے کیلئے مفاہمتی یادداشت بہت اہم ہوگی، 2 سال میں دوطرفہ تجارتی حجم 15 سے 200 ملین ڈالر تک لے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ ہم نے عوامی روابط، ثقافت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی گفتگو کی، دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کیلئے کرغزستان کے صدر کے عزم کے مشکور ہیں۔

دوطرفہ معاہدے تعاون کو مزید مستحکم کریں گے: صادر ژاپاروف
اس موقع پر کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف نے کہا ہے کہ دورہ پاکستان کی دعوت پر وزیراعظم شہبازشریف کا مشکور ہوں، بھرپور مہمان نوازی اور شانداراستقبال پر حکومت پاکستان اور عوام کا شکر گزار ہوں، پاکستان کرغزستان کا قابل اعتماد دوست ہے، دوطرفہ معاہدے تعاون کو مزید مستحکم کریں گے۔

انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں کرغزستان کا اہم شراکت دار ہے، معاشی استحکام اور ترقی کیلئے کاوشیں وزیراعظم پاکستان کے وژن کی عکاس ہیں، ہم نے دوطرفہ تعاون اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، تجارتی روابط میں اضافے کیلئے بزنس فورم کا انعقاد اہم ہے۔

کرغزستان کے صدر نے کہا ہے کہ توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے کاسا 1000 منصوبہ اہمیت کا حامل ہے، تعلیم، سائنس وٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانا ہے، اس وقت 12 ہزار پاکستانی طلبہ کرغزستان میں زیر تعلیم ہیں۔

صادر ژاپاروف نے کہا ہے کہ مواصلات، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں میں تعاون کی صلاحیت سے استفادہ کرنا ہے، تجارتی روابط میں اضافے کیلئے بزنس فورم کا انعقاد اہم ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ دونوں ملک دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں، پاکستان اور کرغزستان مختلف عالمی ایشوز پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں، مختلف شعبوں میں طے پانے والے معاہدے دوطرفہ تعاون کو مستحکم کریں گے۔

اپنے خطاب کے آخر میں صدر کرغزستان صادر ژاپاروف نے وزیراعظم شہباز شریف کو کرغزستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پاکستان کرغزستان اور کرغزستان کے شعبوں میں تعاون کرغزستان کے صدر مختلف شعبوں میں میں کرغزستان نے کہا ہے کہ پاکستان اور شہباز شریف تعلقات کو کے درمیان بزنس فورم تعاون کو انہوں نے تعاون کی

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ