پاکستان 2 سال میں کرغزستان سے تجارتی حجم 200 ملین ڈالر تک لیجانے کیلئے پُرعزم
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان 2 سال میں کرغزستان سے تجارتی حجم 200 ملین ڈالر تک لیجانے کیلئے پُرعزم ہے، دونوں ممالک کے درمیان متعدد اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کئے گئے ہیں۔
وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں کرغزستان اور پاکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشت کے تبادلے کی تقریب ہوئی، جس میں کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف اور وزیراعظم شہباز شریف شریک ہوئے۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور کرغزستان کے صدر صادر ژپاروف کے درمیان بشکیک اور اسلام آباد کو جڑواں شہر قرار دینے کا معاہدہ ہوا ہے، پاکستان اور کرغزستان کے درمیان کان کنی اور جیوسائنسز میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا۔
تقریب کے دوران پاکستان فارن سروسز اکیڈمی اور کرغزستان ڈپلومیٹک اکیڈمی کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا جبکہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور کرغزستان کے وزیر خارجہ نے دستاویز کا تبادلہ کیا، دونوں ممالک کے درمیان سیاحت اور توانائی کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا۔
پاکستان اور کرغزستان کے درمیان سزا یافتہ قیدیوں کے تبادلے اور ثقافت کے شعبے میں معاہدہ ہوا ہے، وزارت قانون و انصاف اور کرغزستان کی وزارت انصاف میں مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا۔
وزیراعظم یوتھ پروگرام اور کرغز ثقافت، اطلاعات، کھیل و امور نوجوانان کی وزارت میں مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا۔
پاکستان-کرغزستان بزنس فورم سے معاشی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف کا کرغزستان کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کرغزستان کے صدر کو پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہیں، پاکستان اورکرغزستان کے درمیان خوشگوار برادرانہ تعلقات ہیں، پاکستان کرغزستان کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کرغز صدر صادرژاپاروف کا دورہ دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کیلئے اہمیت کا حامل ہے، پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی جانب سے معزز مہمان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ معزز مہمان صادرژاپاروف دو دہائیوں بعد پاکستان کا دورہ کرنے والے کرغزستان کے صدر ہیں، یہ دورہ مختلف شعبوں میں تعاون کو نئی جہت دینے کیلئے اہمیت کا حامل ہے، 1992 میں سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات پروان چڑھے۔
شہباز شریف نے کہا کہ مذاکرات میں مختلف شعبوں میں تعاون، علاقائی اور عالمی امور پر گفتگو ہوئی، ہم نے تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا ہے، توانائی، تجارت، روابط کے فروغ اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھائیں گے، پاکستان-کرغزستان بزنس فورم سے معاشی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مختلف شعبوں میں تعاون کے 15 معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں اہم پیشرفت ہے، بزنس فورم کے موقع پر تجارت میں اضافے کیلئے مفاہمتی یادداشت بہت اہم ہوگی، 2 سال میں دوطرفہ تجارتی حجم 15 سے 200 ملین ڈالر تک لے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ ہم نے عوامی روابط، ثقافت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی گفتگو کی، دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کیلئے کرغزستان کے صدر کے عزم کے مشکور ہیں۔
دوطرفہ معاہدے تعاون کو مزید مستحکم کریں گے: صادر ژاپاروف
اس موقع پر کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف نے کہا ہے کہ دورہ پاکستان کی دعوت پر وزیراعظم شہبازشریف کا مشکور ہوں، بھرپور مہمان نوازی اور شانداراستقبال پر حکومت پاکستان اور عوام کا شکر گزار ہوں، پاکستان کرغزستان کا قابل اعتماد دوست ہے، دوطرفہ معاہدے تعاون کو مزید مستحکم کریں گے۔
انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں کرغزستان کا اہم شراکت دار ہے، معاشی استحکام اور ترقی کیلئے کاوشیں وزیراعظم پاکستان کے وژن کی عکاس ہیں، ہم نے دوطرفہ تعاون اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، تجارتی روابط میں اضافے کیلئے بزنس فورم کا انعقاد اہم ہے۔
کرغزستان کے صدر نے کہا ہے کہ توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے کاسا 1000 منصوبہ اہمیت کا حامل ہے، تعلیم، سائنس وٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانا ہے، اس وقت 12 ہزار پاکستانی طلبہ کرغزستان میں زیر تعلیم ہیں۔
صادر ژاپاروف نے کہا ہے کہ مواصلات، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں میں تعاون کی صلاحیت سے استفادہ کرنا ہے، تجارتی روابط میں اضافے کیلئے بزنس فورم کا انعقاد اہم ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ دونوں ملک دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں، پاکستان اور کرغزستان مختلف عالمی ایشوز پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں، مختلف شعبوں میں طے پانے والے معاہدے دوطرفہ تعاون کو مستحکم کریں گے۔
اپنے خطاب کے آخر میں صدر کرغزستان صادر ژاپاروف نے وزیراعظم شہباز شریف کو کرغزستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان کرغزستان اور کرغزستان کے شعبوں میں تعاون کرغزستان کے صدر مختلف شعبوں میں میں کرغزستان نے کہا ہے کہ پاکستان اور شہباز شریف تعلقات کو کے درمیان بزنس فورم تعاون کو انہوں نے تعاون کی
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔