پاکستان کا انسانی بنیادوں پر اقوام متحدہ کےکنٹینرز کیلئے طورخم اور چمن بارڈرکھولنےکا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وفاقی وزارتِ تجارت نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر طورخم اور چمن کی تجارتی گزرگاہوں کو مرحلہ وار کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ اقدام وزارتِ خارجہ سے مشاورت کے بعد اس لیے کیا گیا ہے کہ دونوں گزرگاہیں پچاس روز سے بند ہونے کے نتیجے میں افغانستان میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے، اور پاکستانی حکام چاہتے ہیں کہ بنیادی ضروریات کی فراہمی بحال ہو سکے۔
وزارتِ تجارت نے ممبر کسٹمز (آپریشنز) ایف بی آر اسلام آباد اور ڈائریکٹر جنرل ٹرانزٹ ٹریڈ کراچی کو خط لکھ کر اقوامِ متحدہ کی جانب سے افغانستان کے لیے بھیجے جانے والے امدادی سامان کی آمد و رفت میں خصوصی سہولت فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔
خط کے مطابق وزارتِ خارجہ سے مشاورت کے بعد فیصلہ ہوا ہے کہ یونیسیف، عالمی ادارۂ خوراک (WFP) اور یونائیٹڈ نیشن پاپولیشن فنڈ کے کنٹینرز کو مرحلہ وار کلیئر کیا جائے۔ پہلے مرحلے میں خوراک سے بھرے کنٹینرز، دوسرے مرحلے میں ادویات اور طبی آلات، جبکہ تیسرے مرحلے میں دیگر ضروری اشیاء—جیسے طلبہ و اساتذہ کے لیے کِٹس وغیرہ—کی کلیئرنس کی جائے گی۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹرانزٹ ٹریڈ اور ایف بی آر سے کہا گیا ہے کہ کنٹینرز کی کلیئرنس اور ان کی آگے ترسیل کے لیے فوری کارروائی کی جائے تاکہ یہ سامان چمن اور طورخم کے راستے افغانستان پہنچ سکے۔
واضح رہے کہ سیکیورٹی اور باہمی کشیدگی کے باعث 12 اکتوبر 2025 سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تمام تجارتی گزرگاہیں ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔