اقوام متحدہ کا امریکی دھمکی کے بعد وینزویلا کے فضائی حدود کی حفاظت پر زور
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیو یارک: اقوام متحدہ نے پیر کے روز بین الاقوامی فضائی سفر کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری پر زور دیا، اس اعلان کے بعد کہ امریکا نے وینزویلا کے فضائی حدود کو مکمل طور پر بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفان دوجاری نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عالمی تنظیم کی پوزیشن اس مسئلے پر مستقل اور واضح ہے، انہوں نے ممالک پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور تمام متعلقہ قانونی فریم ورک کے تحت اپنے فرائض کا احترام کریں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے بین الاقوامی فضائی نقل و حمل کی حفاظت اور سکیورٹی کے لیے موجودہ میکانزم کے ذریعے مسائل کو پرامن طور پر حل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
واضح رہے کہ امریکا نے حالیہ مہینوں میں لاطینی امریکہ میں اپنی فوجی کارروائیاں بڑھا دی ہیں، جس میں میرینز، جنگی جہاز، لڑاکا طیارے، بمبار، آبدوزیں اور ڈرونز کی تعیناتی شامل ہے۔ گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا بہت جلد وینزویلا میں زمینی منشیات اسمگلروں کے خلاف کارروائی کرے گا۔
ستمبر سے اب تک امریکی فوج نے 21 ایسے جہازوں پر حملے کیے ہیں جنہیں منشیات سے بھرے ہوئے بتایا گیا، جس میں 83 افراد ہلاک ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔