ٹرمپ نے وینیزویلا کی فضائی حدود مکمل بند کرنے کا اعلان کردیا، جنگی کارروائی کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
واشنگٹن نے وینیزویلا کے گرد فضائی حدود سے متعلق نیا سخت انتباہ جاری کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینیزویلا اور اس کے اطراف کی فضائی حدود کو ’’مکمل طور پر بند‘‘ تصور کیا جائے، تاہم انہوں نے اس فیصلے کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
رائٹرز کے مطابق امریکا، صدر نکولس مادورو کی حکومت پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں ایئرلائنز، پائلٹس، اور مبینہ منشیات اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس علاقے کو ’’نو فلائی زون‘‘ سمجھیں۔
وینیزویلا کی وزارتِ اطلاعات اور امریکی محکمہ دفاع نے اس بیان پر فوری ردعمل نہیں دیا۔
کیریبین میں مبینہ منشیات بردار کشتیوں کے خلاف امریکی کارروائیاں کئی ماہ سے جاری ہیں، جبکہ خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں بھی تیزی آ رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ وینیزویلا میں سی آئی اے کی خفیہ کارروائیوں کی منظوری بھی دے چکے ہیں اور جلد زمینی کارروائیوں کا عندیہ دے رہے ہیں۔
گزشتہ ہفتے امریکی ہوا بازی کے ادارے نے ایئرلائنز کو وینیزویلا کے اوپر پروازوں سے متعلق ’’خطرناک صورتحال‘‘ سے خبردار کیا تھا کیونکہ وہاں سیکیورٹی حالات بگڑ رہے ہیں اور فوجی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے بعد چھ بڑی بین الاقوامی ایئرلائنز نے پروازیں معطل کیں، جس پر وینیزویلا نے ان کے آپریشنل حقوق منسوخ کر دیے۔
To all Airlines, Pilots, Drug Dealers, and Human Traffickers, please consider THE AIRSPACE ABOVE AND SURROUNDING VENEZUELA TO BE CLOSED IN ITS ENTIRETY.
امریکا کا دعویٰ ہے کہ مادورو منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہیں، جبکہ مادورو اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ٹرمپ انہیں اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہیں، جس کی وینیزویلا کی عوام اور فوج مزاحمت کریں گے۔
ستمبر سے اب تک امریکی فورسز کیریبین اور بحرالکاہل میں کم از کم 21 کارروائیاں کر چکی ہیں جن میں 83 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز