ٹرمپ نے وینزویلا کی فضائی حدود کو ’نو فلائی زون‘ قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کی فضائی حدود کو نو فلائی زون قرار دے دیا۔
غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ تمام ایئرلائن، پائلٹ، ڈرگ ڈیلر اور انسانی اسمگلروں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وینزویلا اور اسکے گرد کی فضائی حدود کو مکمل طور پر بند سمجھا جائے۔
گزشتہ ہفتے امریکی ایوی ایشن ریگولیٹر نے بڑی ایئرلائن کو خبردار کیا تھا کہ وینزویلا کے اوپر پرواز کرنا خطرناک ہوسکتا ہے، ملک میں سیکیورٹی کی صورت حال بگڑ چکی ہے اور فوجی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
وییزویلا نے وارننگ پر عمل کرنے والی چھ بڑی بین الاقوامی ایئرلائن کے آپریٹنگ حقوق منسوخ کردیے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور وینزویلا کے درمیان منشیات کی اسمگلنگ پرحالات کشیدہ ہیں، امریکا کئی مرتبہ کیریبیئن سی میں ڈرگ ڈیلر کی کشتیوں کو نشانہ بنا چکا ہے، امریکی جنگی بیڑا بھی کیریبیئن میں موجود ہے، وینزویلا نے بھی جنگی مشقیں شروع کی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔