گزشتہ ہفتے ٹرمپ اور مادورو کی ٹیلیفونک بات چیت ہوئی، امریکی اخبار کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
امریکی اخبار نے جمعہ کے روز اطلاع دی کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی اس ٹیلیفونک گفتگو میں شریک تھے۔ ادھر وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وینزویلا کے صدر مادورو سے ٹیلفون پر بات کی، دونوں رہنماؤں نے امریکہ میں ایک ممکنہ ملاقات کے انعقاد پر بات چیت کی تاہم تاریخ طے نہیں کی گئی۔ امریکی اخبار نے جمعہ کے روز اطلاع دی کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی اس ٹیلیفونک گفتگو میں شریک تھے۔ ادھر وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ خیال رہے کہ یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نے وینزویلا پر کھلی جارحیت کی دھمکی دی ہے اور مادورو کے حوالے سے امریکی صدر سخت بیانیہ اختیار کیے ہوئے ہیں، اس کے جواب میں وینزویلا نے کسی بھی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کرنے اور اپنی تیاری کا اعلان کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی اخبار
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔