ایران کے بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے، طیارہ گرانے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2026 GMT
ایران کے بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے، طیارہ گرانے کا دعویٰ WhatsAppFacebookX 0 24 July, 2026 سب نیوز
تہران: (آئی پی ایس) ایران کا بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے ڈرون حملوں کا دعویٰ، جزیرے قشم پر امریکی طیارہ مار گرایا۔
ایرانی فوج نے کہا ہے کہ بحرین اور اردن میں واقع امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے کیے ہیں،بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر ایندھن کے ذخائر،گوداموں اور فوجی رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران کی جانب سے اردن کے الازرق ایئر بیس پر طیاروں کے ہینگرز،مرمتی مراکز اور رہائشی تنصیبات پر بھی حملے کیے گئے۔
ایرانی فوج نے کہا ہے کہ ایرانی مفادات کے خلاف کسی بھی اقدام سے خطے کی سلامتی اور معاشی استحکام مزید متاثر ہوگا، قشم جزیرے پر پرواز کرنے والا طیارہ مار گرایا ہے، ملبہ جلتاہوا گرنے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
اس کے علاوہ ایران نے صوبہ کرمان پر امریکا کی جانب سے داغا گیا ٹوما ہاک میزائل بھی فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر بھی میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں، کویت میں بھی سائرن کی آوازیں گونجتی رہیں۔
علاوہ کویت کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ایران اور اس کے حمایت یافتہ عناصر کی جانب سے ملک کے خلاف جاری مجرمانہ جارحیت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق جمعرات کو اس کے العبدلی بارڈر کو متعدد ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جو ریاستِ کویت کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی، امن و استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ، اور بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
کویتی وزارت نے زور دیا کہ ان بار بار ہونے والے حملوں کا تسلسل ایک خطرناک اشتعال انگیزی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہے، جو ایک منظم اور ناقابلِ جواز دشمنی پر مبنی طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے اور اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرامریکا کے مسلسل 13 ویں رات ایران پر حملے، کئی شہروں میں دھماکے، 4 افراد جاں بحق اگلی خبرمتنازع اے این ایف بھرتی اشتہار کی معطلی کی درخواست پر عدالت کا تحریری حکم نامہ جاری اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد پاکستان اور آذربائیجان نے دیرینہ دوستی مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کردیا کیوبا کے سفارتخانے میں فوٹو نمائش کے ذریعے فیڈل کاسترو کی صد سالہ تقریبات کا انعقاد چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنے پر اسحاق ڈار کا اظہارِ تشکر برطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریب پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: امریکی فوجی تنصیبات پر بحرین اور اردن میں میں امریکی فوجی کا دعوی کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔