عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے متعلق اڈیالہ جیل کی رپورٹ عدالت میں پیش
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
راولپنڈی: سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رپورٹ میں جیل انتظامیہ نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے تمام قیاس آرائیوں کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔ عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق عمران خان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ جیل کے اندر سے استعمال ہونے کے دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں اور نہ ہی ایسی کوئی سہولت انہیں فراہم کی جا رہی ہے جس سے وہ آن لائن سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔
سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے پیش کردہ جواب میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی سخت نگرانی کے ماحول میں رکھے گئے ہیں، جہاں ان کے پاس موبائل فون، انٹرنیٹ ڈیوائس یا کسی بھی قسم کے ممنوع آلات تک رسائی ممکن ہی نہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ جیل کے اندر سگنل جامرز فعال ہیں جن کے باعث موبائل نیٹ ورک مکمل طور پر غیر فعال رہتا ہے۔ اس لیے نہ صرف قیدی بلکہ اسٹاف بھی کسی قسم کے موبائل سگنلز تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا، جس سے یہ تاثر مزید غلط ثابت ہوتا ہے کہ کوئی آن لائن سرگرمی جیل سے ممکن ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی وضاحت کی گئی کہ عمران خان سمیت تمام قیدیوں کی باقاعدگی سے جامہ تلاشی لی جاتی ہے تاکہ کسی ممنوع شے کی فراہمی کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔ انتظامیہ نے نشاندہی کی کہ جیل رول 265 کے تحت بانی پی ٹی آئی کو سیاسی گفتگو کی اجازت نہیں، تاہم جیل ٹرائل کے دوران ملاقاتوں میں ان کے وکلا اور اہل خانہ کبھی کبھار سیاسی بحث چھیڑ دیتے ہیں جو قواعد کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ اس معاملے پر بھی انتظامیہ نے عدالت کو بتایا کہ بارہا ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ملاقاتیں صرف قانونی نکات تک محدود رہیں۔
مزید برآں سپرنٹنڈنٹ نے اپنے جواب میں اس تاثر کی بھی تردید کی کہ عمران خان کسی طرح جیل سے سیاسی ہدایات جاری کر رہے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق ماضی کے بعض واقعات میں ان ہدایات کے معاشرتی ردعمل نے کشیدگی کو بڑھایا تھا، لیکن موجودہ صورتحال میں ایسا ممکن نہیں کیونکہ وہ مکمل نگرانی میں ہیں اور جیل کے اندر کوئی کمیونیکیشن سہولت موجود نہیں۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ باہر سے چلایا جا رہا ہے اور اس کے انتظام یا مواد کا جیل انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل رپورٹ میں
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔