وزیراعظم شہبازشریف لندن سے وطن واپس پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: وزیراعظم شہبازشریف لندن میں قیام کے بعد وطن واپس پہنچ گئے۔
وزیراعظم شہبازشریف لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر قیام کریں گے بعد ازاں اسلام آباد کیلئے روانہ ہوں گے۔وہ پیر کی صبح لندن کے لیوٹن ائیرپورٹ سے پاکستان کے لیے روانہ ہوئے تھے۔
یاد رہے وزیراعظم بحرین کے سرکاری دورے کے بعد لندن روانہ ہوئے تھے جہاں ذرائع کا کہنا ہے کہ اپنے قیام کے دوران اُنہوں نے روٹین کا چیک اپ کرایا ہے۔
خیال رہے چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی اور نوٹیفکیشن کے حوالے سے ملک میں اپوزیشن اور دیگر حلقوں میں چہ مگوئیاں ہورہی ہیں، تاہم حکومتی وزرا اور مشیر اِن کی واپسی پر معاملہ کے حل کا عندیہ دے چکے ہیں۔
ویب ڈیسک
عادل سلطان
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں۔
اپنے تازہ بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے جس طرزِ عمل پر عمل پیرا ہے، اسے مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سفارتی حل اور معاہدہ ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے تعطل سے متعلق خبروں کو بھی مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض اطلاعات کے برعکس دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور بات چیت مسلسل جاری ہے اور مذاکرات کا عمل رکا نہیں ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی گفتگو مختلف معاملات پر جاری ہے، تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مذاکرات کا حتمی نتیجہ کیا نکلے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت کوئی بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ یہ مذاکرات کس سمت جائیں گے یا ان کا اختتام کس نوعیت کے معاہدے پر ہوگا، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔
ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے، جوہری پروگرام، علاقائی کشیدگی اور اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
عالمی مبصرین کی نظریں بھی دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر مرکوز ہیں کیونکہ کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے مشرق وسطیٰ اور عالمی سیاست پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔