پاکستانی ٹینس اسٹار اعصام الحق کا ریٹائرمنٹ کا اعلان،26سالہ شاندار کیریئر کا اختتام
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستانی ٹینس اسٹار اعصام الحق قریشی نے پیر کی رات اسلام آباد میں اے ٹی پی چیلنجر پاکستان کی افتتاحی تقریب کے دوران پروفیشنل ٹینس سے ریٹائرمنٹ کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔
اس موقع پر 45 سالہ اعصام اپنی جذباتی تقریر میں آبدیدہ ہوگئے اور کہا کہ “مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ آنسو میرے کیریئر کے لیے ہیں یا بطور صدر چیلنجر کپ کی میزبانی کے لیے”۔
پاکستان ٹینس فیڈریشن (پی ٹی ایف) کے صدر کی حیثیت سے اعصام نے اس ماہ کے آغاز میں بتایا تھا کہ اے ٹی پی چیلنجر کو پاکستان لانا ان کا دیرینہ خواب تھا جو اب پورا ہو گیا ہے۔
پی ٹی ایف کے صدر کی جانب سے جاری سوشل میڈیا بیان میں کہا گیا کہ اعصام الحق کی میراث آنے والے ٹینس کھلاڑیوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گی اور ملک میں ٹینس کے فروغ میں ان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔
اعصام نے 1998 میں پروفیشنل کیریئر کا آغاز کیا اور وہ واحد پاکستانی کھلاڑی ہیں جنہوں نے 2010 کے یو ایس اوپن میں مردوں کے ڈبلز اور مکسڈ ڈبلز کے گرینڈ سلیم فائنل میں جگہ بنا کر تاریخ رقم کی۔
اے ٹی پی ٹور کے مطابق اعصام نے دسمبر 2007 میں سنگلز میں عالمی رینکنگ 125 حاصل کی، جبکہ 2011 میں بھارتی ساتھی روہن بوپنا کے ساتھ ڈبلز میں عالمی نمبر 8 تک پہنچے۔
اے ٹی پی نے رواں ماہ ٹورین میں ہونے والے نِٹو اے ٹی پی فائنلز کے دوران اعصام سمیت دنیا کے 8 ریٹائرڈ اسٹارز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
اپنے کیریئر پر بات کرتے ہوئے اعصام کا کہنا تھا کہ اس مقام تک پہنچنا ایک ناقابلِ یقین احساس ہے،”بطور پاکستانی میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میرا کیریئر اتنا طویل اور کامیابیوں سے بھرپور ہوگا۔ اے ٹی پی میرے لیے دوسرا گھر تھا۔ اچھے اور برے دونوں وقت آئے، لیکن دوستی اور اعتماد میری سب سے قیمتی کمائی ہے۔”
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اے ٹی پی
پڑھیں:
فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی پانے والے پاک افواج کے افسر عامر رضا کون ہیں؟
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان آرمی کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا، ہلالِ امتیاز (ملٹری)، ستارۂ بسالت کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے اور انہیں کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان کر دیا ہے جب کہ عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا اعتراف ہے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم نے جنرل عامر رضا کو ترقی اور نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ جنرل عامر رضا قومی سلامتی سے متعلق اس اہم ذمہ داری کو پیشہ ورانہ مہارت اور قومی عزم کے ساتھ انجام دیں گے۔
Islamabad, 24 July 2026.
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif has announced the promotion of Lieutenant General Aamer Raza, HI(M), SBt, Chief of the General Staff of Pakistan Army, to the rank of “Four-Star General” and his appointment as “Commander National Strategic… pic.twitter.com/U1Qk2K5nsl
کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا منصب ملک کی اسٹریٹجک صلاحیتوں اور قومی دفاعی حکمتِ عملی کے حوالے سے انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے جب کہ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی کو پاکستان کی عسکری قیادت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا اعتراف ہے۔
چیف آف جنرل اسٹاف (سی جی ایس) لیفٹیننٹ جنرل سید عامر رضا کو پاک افواج کی میرٹ اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔
لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی ترقی ان کے شاندار عسکری کیریئر اور وسیع پیشہ ورانہ تجربے کا اعتراف ہے،
لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا نے جی ایچ کیو میں چیف آف جنرل اسٹاف کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
یہ پاک فوج کے اہم ترین عہدوں میں شمار ہوتا ہے اور جس کے لیے اعلیٰ سطح کی حکمت عملی، آپریشنل مہارت اور عسکری امور پر گہری گرفت درکار ہوتی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا اس سے قبل ڈائریکٹر جنرل ویپنز اینڈ ایکوپمنٹ اور چیئرمین ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (ایچ آئی تی) کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کا آرمرڈ کور میں نمایاں کیریئر، مختلف کمانڈ، اسٹاف اور تربیتی عہدوں پر خدمات اور پیشہ ورانہ مہارت ان کی وسیع عسکری صلاحیتوں کا مظہر ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی تقرری اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ پاک افواج اعلیٰ ترین عہدوں پر تقرری کے لیے میرٹ، تجربے اور پیشہ ورانہ قابلیت کو بنیادی معیار بناتی ہیں۔
اپنے وسیع تجربے اور مہارت کے باعث لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کی قیادت کے لیے موزوں ترین انتخاب ہیں، جو اسٹریٹجک امور میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔