عمران خان کی بہنوں کا اڈیالہ جیل کے قریب دھرنا‘ کئی کارکنان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر اڈیالہ جیل کے قریب اْن کی بہنوں نے دھرنا دے دیا۔ پولیس نے مظاہرین سے مذاکرات کر کے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی جو ناکام رہی۔مذاکرات میں ناکامی کے بعد راولپنڈی پولیس نے دھرنے کے شرکا یک خلاف کریک ڈائون شروع کیا اور مرد کارکنوں کی گرفتاریاں شروع کردیں۔عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اڈیالہ روڈ پر دھرنا ختم کرنے سے انکار کر دیا۔پولیس نے اڈیالہ جیل جانے والا راستہ بند کر دیا اور عمران خان سے کسی رہنما یا فیملی ممبر کو ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر علیمہ خان نے اڈیالہ روڈ پر دھرنا دے دیا۔پولیس کی جانب سے علیمہ خان کو راستہ خالی کرنے کی درخواست کی گئی تاہم یہ مذاکرات ناکام ہوگئے اور عمران خان کی ہمشیرہ نے ر دھرنا ختم کرنے سے انکار کردیا،جس کے بعد دھرنے کے شرکا کو اٹھانے کے لیے پولیس نے سڑک پر پانی کا چھڑ کاؤ کر دیا۔علیمہ خان کا کہنا ہے کہ اب مذاکرات نہیں ہوں گے،دھرنا جاری رہیگا۔رات گئے اڈیالہ جیل کے قریب گورکھپور ناکے پر موجود دھرنے کے خلاف پولیس نے آپریشن کرتے ہوئے علیمہ خان سمیت متعدد کارکنوں کو تحویل میں لے لیا۔پولیس نے 8 سے 10 کارکنوں کو تحویل میں لے کر قیدی وین میں ڈال دیا، علیمہ خان کو بھی پولیس نے تحویل میں لے لیا۔اڈیالہ جیل کے قریب گورکھپور ناکے پر عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی کی طبیعت خراب ہوگئی۔پولیس نے دھرنا ختم کرادیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل کے قریب عمران خان کی علیمہ خان پولیس نے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔