ڈپٹی کمشنر بدین کی ہدایت پر اینٹوں کے بھٹوں پر اچانک چھاپا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماتلی (نمائندہ جسارت)ڈپٹی کمشنر بدین کی واضح ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر ماتلی ثوبان احمد رانجھا نے ماتلی کے مختلف علاقوں میں قائم آٹھ اینٹوں کے بھٹوں کا اچانک معائنہ کیا۔ اس کارروائی میں محکمہ ماحولیات سندھ کی خصوصی ٹیم اور اعلیٰ افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔بھٹہ مالکان کو قبل از وقت 27 نومبر کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی تاکہ وہ اپنے بھٹوں کو ماحول دوست اور صاف ایندھن پر منتقل کریں، تاہم کارروائی کے دوران اس ہدایت کی کھلی خلاف ورزی سامنے آئی۔معائنے کے دوران ان بھٹوں پر پلاسٹک کا کچرا، اسپتالوں کا طبی فضلہ، چکن فیڈ، پرانے کپڑے اور دیگر انتہائی مضر اشیا ایندھن کے طور پر استعمال ہوتی پائی گئیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے ایندھن نہ صرف ماحول کے لیے خطرناک ہیں بلکہ قریبی آبادیوں کی صحت کے لیے بھی سنگین رسک ثابت ہو سکتے ہیں۔مزید برآں، بھٹوں پر جبری مشقت کے علاوہ کم عمر بچوں سے مزدوری کے افسوسناک مناظر بھی دیکھنے میں آئے، جن میں بعض بچے محض 4 اور 5 سال کی عمر کے تھے۔ مزدوروں کے لیے حفاظتی سازوسامان کی مکمل عدم دستیابی بھی شدید تشویش کا باعث بنی۔اس صورتحال پر اسسٹنٹ کمشنر ماتلی ثوبان احمد رانجھا نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بھٹہ مالکان کو واضح طور پر تنبیہ کی کہ انسانی جانوں سے کھیلنے اور ماحولیاتی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ملوث مالکان کے خلاف فوری قانونی کارروائی شروع کی جا رہی ہے، جس میں بھٹہ سیل کرنا، سنگین جرمانے اور مزید سخت اقدامات بھی شامل ہوں گے۔اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ محکمہ ماحولیات سندھ کی خصوصی ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں مزید جگہوں کا بھی معائنہ کیا جائے گا اور ایسے تمام بھٹوں کے خلاف سخت آپریشن جاری رہے گا جو ماحول اور انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔