دنیا جمہوریت آمریت سے بد تر ہوتی جا رہی ہے ؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا بھر میں جمہوریت کا خاتمہ کیو ں ہے ، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ عوام کو اس نظام نے کچھ دینے کے بجائے جمہوری حکومتوں نے عوام سے سب کچھ چھین لیا ہے۔ دوسری جانب اس نظام کو اس اصل روح کے مطابق چلایا نہیں جارہا ہے-
جنوبی ایشیا میں دنیا کی 8 ارب آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی اور ایشیا کی تقریباً نصف آبادی رہتی ہے، جس سے خطے کو ڈیموگرافک، سیاسی اور معاشی طور پر بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔
سوائے افغانستان کے، اس خطے میں دیگر 7 ممالک میں جمہوریتیں ہیں۔ ان میں رجسٹرڈ ووٹروں کے لحاظ سے دنیا کی 10 بڑی جمہوریتوں میں سے 3 ملک یعنی انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔
ایک محدود سروے کے مطابق جن ممال میں جمہوریت چلائی جا رہی ہے وہاں بھی اس میں آمریت کی ملاوٹ کی جارہیہے۔انڈیا اور پاکستان میں جمہوریت اور اس کے معیار کا نیا درج حرارت حال ہی میں چیک کیا گیا ہے، جبکہ بنگلہ دیش چند ہفتے میں انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے اور ایک نئے آئینی طریقہ کار کا اعلان کر رہا ہے۔ ایک ایسے خطے کے لیے جو اپنی منتخب جمہوری اقدار پر فخر کرتا ہے، تشخیص اچھی نہیں لگ رہی۔
جمہوریت کی ناکامی کی ایک وجہ یہ ہے کہ اکثریت کے ووٹوں کو پوری دنیا اور جنوبی ایشیا اور پاکستان میں عزت دینے کے بجائے روندا جاتا ہے ۔انڈیا نے ابھی بہار میں ریاستی انتخابات منعقد کیے ہیں، جو وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی مقبولیت اور مذہبی رنگت والے قوم پرست سیاسی ایجنڈے کے لیے ایک ٹیسٹ کیس تھا۔ پاکستان میں وزیراعظم شہباز شریف کی پالیسیوں کی حمایت کے اسی طرح کے ٹیسٹ کے ساتھ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی انتخابات منعقد ہوئے۔
دونوں ممالک میں مودی کی بی جے پی اور شریف کی مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں حکمران اتحادوں نے قومی اور علاقائی اسمبلیوں میں اپنی اکثریت کو بہتر بنایا۔ دونوں پارٹیوں نے رائے عامہ کے کچھ جائزوں کے برخلاف اپنے اپنے سیاسی حریفوں کو شکست دی۔
تکنیکی طور پر ان نتائج میں قانونی لحاظ سے کچھ بھی غلط نہیں ہے، اپوزیشن عام طور پر نتائج کو قبول کرتی ہے اور فاتحین اپنے غلبے کا جشن منا رہے ہیں۔
لیکن دونوں ممالک میں آئینی جمہوری فریم ورک کے اندر منعقد ہونے والی اس انتخابی مشق کی سیاست کے بارے میں کچھ پریشان کن ہے۔
انڈیا اور پاکستان دونوں ناقابل یقین حد تک تکثیری اور متنوع ہیں، ان کے سیاسی منظرنامے اور سماجی و اقتصادی ڈیموگرافکس اور انتخابی مشق کا پورا پس منظر نہ صرف معمول کی موقع پرستی بلکہ جارحانہ اور اشتعال انگیز سیاسی داداگیری کی بھی بُو دے رہا تھا۔
جب گزشتہ سال عام انتخابات میں ان کی پارٹیاں انڈیا اور پاکستان میں اقتدار میں آئیں تو یہ عمل ہیرا پھیری پر مبنی سیاسی بیانیے کے پس منظر میں دیکھا گیا۔ انڈیا کے معاملے میں انسانی حقوق کے ایجنڈوں کے بجائے ہندوتوا کے غلبے کی ایک استثنائی مہم کے گرد اقلیت مخالف نعرے پہلے سے طے شدہ انتخابی زبان تھی۔
پاکستان کے معاملے میں انتخابی نظام نے سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کو انتخابی نشان سے محروم کر دیا، نیز ووٹوں کی گنتی اور دستاویزات کے نظام میں مشکوک ہیرا پھیری ہوئی۔
پاک افغان مذاکرات پر انس حقانی کی غزل: انتباہ یا پیغام؟
اس مہینے کی بڑے پیمانے پر انتخابی مشقوں نے صرف اس صورت حال کو مزید بگاڑ دیا ہے جس میں دونوں ممالک میں اپوزیشن کو انتخابی، پارلیمانی اور حکمرانی کی جگہوں سے سختی سے محدود کر دیا گیا ہے اور ساتھ ہی حکمران جماعتیں اپنی قانونی لیکن متنازع اکثریت سے آگے بڑھ رہی ہیں۔
خطے میں جمہوریت کے معیار کو ٹریک کرنے والوں کے لیے جنوبی ایشیا کی 2 بڑی جمہوریتیں اپنی جائز اپوزیشن کے لیے جگہ مزید سکڑ رہی ہیں۔
یہ رجحان سیاسی تکثیریت اور شراکتی جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے کیوں کہ اکثریت پسندی طاقت کو مزید کم ہاتھوں میں مرکوز کرتی ہے، عوامی مفاد میں بامعنی اختلاف رائے اور جمہوریت کی دائمی اپیل کو کمزور کرتی ہے۔
اکثریت پسندی کا دوسرا رخ آمریت اور تنزلی کا شکار احتساب ہے۔ پاکستان میں اس کا ترجمہ واحد پارٹی کی اکثریت پسندی کی طرف واپسی، ایک اہم اتحادی کو ناراض کرنے اور مرکزی اپوزیشن پارٹی کو مزید سائیڈ لائن کرنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ یہی حال انڈیا کا بھی ہے۔
بنگلہ دیش فروری 2026 میں ہونے والے آئندہ قومی انتخابات سے معزول اور جلاوطن سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی سابقہ حکمران جماعت اور موجودہ مشکلات میں گھری اپوزیشن پارٹی پر پابندی لگا کر خود کو انڈیا اور پاکستان کے رجحانات کے ساتھ ہم آہنگ کر رہا ہے۔
یہ ستم ظریفی سے خالی نہیں کہ جنوبی ایشیا کی 3 سب سے بڑی جمہوریتوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات خراب ہیں جو اکثر جنگ میں تبدیل ہونے کی دھمکی دیتے ہیں۔ انڈیا اور پاکستان کچھ ماہ قبل ہی جنگ کی طرف گئے تھے۔ اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ تکثیری جمہوریتیں تنازعات کے حل کے لیے ایک بہتر اور سستا آپشن ہیں۔
انڈین اور پاکستانی سیاست، نیز بنگلہ دیش میں عبوری نظام کو جمہوریت کو بامعنی اور شراکتی رکھنے کے لیے سیاسی تکثیریت کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، کمزور کرنے کی نہیں۔ انہیں انتخابی مہم کے مالیاتی قوانین کو سختی سے نافذ کرنا چاہیے اور اپوزیشن پارٹیوں کے لیے ریاستی فنڈنگ یا میڈیا تک مساوی رسائی فراہم کرنی چاہیے۔
انہیں آزاد انتخابی اداروں کی ضمانت دینے اور متنوع آوازوں کے لیے قابل نفاذ تحفظات کو یقینی بنانے کے لیے قانونی اصلاحات بھی کرنی چاہئیں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ اپوزیشن کو ساختی طور پر پسماندہ نہ کیا جائے۔
اس سے جمہوریت کے بنیادی منافع کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی: اقتصادی توسیع کی بہت بڑی صلاحیت۔ جنوبی ایشیا عالمی سطح پر تیزی سے ترقی کرنے والے خطوں میں شامل ہے، جس کی پیش گوئی اکثر 6 فیصد سالانہ سے زیادہ ہوتی ہے لیکن یہ تب ہی برقرار رہ سکتی ہے جب سیاسی طاقت سیاسی استحکام کا کام کرے۔ اس کے لیے خطے کو جمہوریت کے نام پر اکثریت پسندی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ چھوڑنی چاہیے۔
اس حقیت سے انکار نہیں ہے جمہورت بھی ایک اچھا نظام حکومت بن سکتا ہے اور اس کو کامیابی چلا کر عوام کی خدمت کی جاسکتی ہے لیکن اس پر چند خاندان اور گروپ قابض ہو کر اس کو تباہ کر رہے ۔اب تو جمہوریت آمریت سے بد تر ہوتی جا رہی ہے-
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انڈیا اور پاکستان اپوزیشن پارٹی اکثریت پسندی پاکستان میں میں جمہوریت جنوبی ایشیا جمہوریت کے بنگلہ دیش ممالک میں کرنے کی کے لیے ہے اور رہا ہے ا مریت
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔