Jasarat News:
2026-06-03@01:07:42 GMT

منشیات کا پھیلاؤ ’’فساد فی الارض‘‘ ہے !

اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

روس اور افغانستان کی جنگ 24/ دسمبر 1979 کو شروع ہوئی اور 10، سال بعد 15/ فروری 1989کو بند ہوگئی۔ اس جنگ سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو پہنچاہے،ان دو ممالک کی جنگ کے دوران پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت تھی، حکومت نے مذہبی رواداری اور انسانیت کے ناطے مظلوم افغان بھائی بہنوں کے لیے اپنی سرحدوں کو فراخ دلی سے کھول دیا انہیں رہائش کے ساتھ ساتھ کاروبار کی آزادی بھی حاصل ہوگئی۔ افغان پاک سرحد 2500، کلومیٹر طویل ہے، ہماری مہمان نوازی کی وجہ سے 70، لاکھ افغان مہاجرین ، پاکستان کے اہم حصوں میں رہائش پذیر ہوگئے اور اپنی مضبوط بستیاں قائم کرلیں۔ حکومتوں کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے مظلوم افغانیوں کے ساتھ بہت بڑی تعداد منشیات فروشوں کی کلاشنکوف کے ساتھ داخل ہوگئ اور دیکھتے ہی دیکھتے منشیات اور ناجائز اسلحہ پورے ملک میں پھیل گیا،1980 میں ہیروئین کا ایک بھی عادی فرد نہیں تھا لیکن آج پاکستان میں ڈیڑھ کروڑ افراد اربوں روپوں کانشہ کر رہے ہیں، بے تحاشہ جدید اسلحہ حشرات الارض کی طرح قاتلوں کے پاس پہنچ گیا، ظلم تو یہ ہوا کہ طلباء میں منشیات کی رسائی کے ساتھ، افسوس در افسوس ان کو کلاشنکوف بھی تھما دی گئیں! منشیات کی پیداوار ، اسمگلنگ اور سپلائی کرنے والے ممالک میں ، افغانستان،ایران اور پاکستان پہلا ’’گولڈن کریسنٹ‘‘بن گئے ہیں۔ افغانستان سے منشیات کی ترسیل ،’’طور خم‘‘، ’’چمن‘‘ اور پاکستان کے سرحدی علاقوں سے منظم طریقوں سے ہوتی ہے۔ اس وقت افغانستان میں پوست کی کاشت 32، ہزار ایکڑ پر محیط ہے، امارات اسلامیہ افغانستان کو چاہیے کہ وہ اس کاشت کو مکمل طور پر تلف کر دے۔ تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) کا مرکز افغانستان میں ہے، ٹی ٹی پی کسی بھی صورت میں پاکستان میں امن اور خاتمہ منشیات نہیں چاہتی اس سلسلے میں اس نے ہمارے دشمن انڈیا سے بھی ہاتھ ملا لیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق “طالبان حکومت ہر ماہ فتنہ الخوارج کے امیر نور علی محسود کو 50، ہزار 5،سو ڈالر دے رہی ہے۔”

ڈرگ مافیا اور افغانستان سے بڑے پیمانے پر خیبر پختون خواہ میں منشیات فروشوں کو ہمارے مقامی سیاسی لوگوں کی سہولت کاریاں اور سرپرستی حاصل ہے ۔ وادی تیراہ میں “فوجی آپریشن” کی مخالفت بھی یہ ہی لوگ کرتے ہیں، اس وجہ سے پورے ملک میں جرائم، لاقانونیت اور منشیات کے پھیلاؤ سے مسائل پیدا ہو گئے ہیں، منشیات فروشوں کی محفوظ پناہ گاہیں افغان بستیاں بن چکی ہیں وہ یہاں سے نکل کر منشیات فروشی اور بڑے سے بڑا جرم کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے ہیں، ان جرائم پیشہ عناصر نے صرف کراچی شہر میں گزشتہ سال موبائل فون اور موٹر سائیکل چھیننے کی مزاحمت پر 110، اور رواں سال میں 76، معصوم شہریوں کی جانیں لی جا چکی ہیں۔ ملک بھر میں ان کے اربوں روپے کے ڈمپرز بغیر ٹیکس اور کاغذات کے چل رہے ہیں، ان ڈمپرز نے صرف کراچی میں رواں سال 217، معصوم لوگوں کی جان لی ہے، ان لوگوں کی شناخت نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ قانون کی گرفت میں نہیں آپا تے ہیں۔ ،پاکستان کے بڑے شہروں کے چائے کے ہوٹل کی سر پر ستی بھی انہیں حاصل ہے، عوام الناس کو ملاوٹ والی نشی چائے پلا رہے ہیں، یہ ہوٹل دن رات کھلے رہنے کی وجہ سے جرائم پیشہ افراد کی مستقل بیٹھک بن گئی ہے۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق منشیات فروش ٹی ٹی پی کے ذریعے وادی تیراہ اور سرحدی علاقوں میں 12، ہزار ایکڑ زمین پر پوست کی کاشت کر رہے ہیں،یہ ہمارے اینٹی نارکوٹکس فورس اور فرنیٹر گروپز کے جوانوں کو شہید کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے ہیں، ان لوگوں نے ہمارے 582، فوجی جوان و افسران اور 356، بے گناہ شہریوں کو بھی شہید کر دیا ہے۔ افغان حکومت جھوٹا پروپیگینڈا کرتی ہے کہ “پاکستان نے امریکہ کو اپنی سر زمین افغانستان پر حملوں کے لیے دے رکھی ہے، اسے جواز بنا کر افغانستان اب پاکستان پر وقتاً فوقتاً حملے کر رہا ہے۔افغان حکومت یاد رکھے کہ پاک فوج کے ساتھ 25، کروڑ عوام سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔
اگر ہم منشیات سے پاک معاشرہ چاہتے ہیں تو جلد از جلد بقیہ 60، لاکھ افغانیوں کو 50، سال مہمان نوازی کے بعد اچھے طریقے سے رخصت کرنا ہوگا ، آپ دیکھیں گے کہ چند سالوں میں یقیناً وطنِ عزیز سے منشیات اور دیگر جرائم میں حیرت انگیز کمی واقع ہو جائے گی، ان کے جانے سے ہماری سلامتی محفوظ اور دنیا میں عزت کے مقام کے ساتھ ساتھ ہمارے لاکھوں معصوم لوگ منشیات کی عفریت سے بچ جائیں گے۔ ان شاءاللہ ۔

رفیع احمد گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: منشیات کی کی وجہ سے کے ساتھ رہے ہیں

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی