Jasarat News:
2026-07-24@03:10:36 GMT

منشیات کا پھیلاؤ ’’فساد فی الارض‘‘ ہے !

اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

روس اور افغانستان کی جنگ 24/ دسمبر 1979 کو شروع ہوئی اور 10، سال بعد 15/ فروری 1989کو بند ہوگئی۔ اس جنگ سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو پہنچاہے،ان دو ممالک کی جنگ کے دوران پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت تھی، حکومت نے مذہبی رواداری اور انسانیت کے ناطے مظلوم افغان بھائی بہنوں کے لیے اپنی سرحدوں کو فراخ دلی سے کھول دیا انہیں رہائش کے ساتھ ساتھ کاروبار کی آزادی بھی حاصل ہوگئی۔ افغان پاک سرحد 2500، کلومیٹر طویل ہے، ہماری مہمان نوازی کی وجہ سے 70، لاکھ افغان مہاجرین ، پاکستان کے اہم حصوں میں رہائش پذیر ہوگئے اور اپنی مضبوط بستیاں قائم کرلیں۔ حکومتوں کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے مظلوم افغانیوں کے ساتھ بہت بڑی تعداد منشیات فروشوں کی کلاشنکوف کے ساتھ داخل ہوگئ اور دیکھتے ہی دیکھتے منشیات اور ناجائز اسلحہ پورے ملک میں پھیل گیا،1980 میں ہیروئین کا ایک بھی عادی فرد نہیں تھا لیکن آج پاکستان میں ڈیڑھ کروڑ افراد اربوں روپوں کانشہ کر رہے ہیں، بے تحاشہ جدید اسلحہ حشرات الارض کی طرح قاتلوں کے پاس پہنچ گیا، ظلم تو یہ ہوا کہ طلباء میں منشیات کی رسائی کے ساتھ، افسوس در افسوس ان کو کلاشنکوف بھی تھما دی گئیں! منشیات کی پیداوار ، اسمگلنگ اور سپلائی کرنے والے ممالک میں ، افغانستان،ایران اور پاکستان پہلا ’’گولڈن کریسنٹ‘‘بن گئے ہیں۔ افغانستان سے منشیات کی ترسیل ،’’طور خم‘‘، ’’چمن‘‘ اور پاکستان کے سرحدی علاقوں سے منظم طریقوں سے ہوتی ہے۔ اس وقت افغانستان میں پوست کی کاشت 32، ہزار ایکڑ پر محیط ہے، امارات اسلامیہ افغانستان کو چاہیے کہ وہ اس کاشت کو مکمل طور پر تلف کر دے۔ تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) کا مرکز افغانستان میں ہے، ٹی ٹی پی کسی بھی صورت میں پاکستان میں امن اور خاتمہ منشیات نہیں چاہتی اس سلسلے میں اس نے ہمارے دشمن انڈیا سے بھی ہاتھ ملا لیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق “طالبان حکومت ہر ماہ فتنہ الخوارج کے امیر نور علی محسود کو 50، ہزار 5،سو ڈالر دے رہی ہے۔”

ڈرگ مافیا اور افغانستان سے بڑے پیمانے پر خیبر پختون خواہ میں منشیات فروشوں کو ہمارے مقامی سیاسی لوگوں کی سہولت کاریاں اور سرپرستی حاصل ہے ۔ وادی تیراہ میں “فوجی آپریشن” کی مخالفت بھی یہ ہی لوگ کرتے ہیں، اس وجہ سے پورے ملک میں جرائم، لاقانونیت اور منشیات کے پھیلاؤ سے مسائل پیدا ہو گئے ہیں، منشیات فروشوں کی محفوظ پناہ گاہیں افغان بستیاں بن چکی ہیں وہ یہاں سے نکل کر منشیات فروشی اور بڑے سے بڑا جرم کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے ہیں، ان جرائم پیشہ عناصر نے صرف کراچی شہر میں گزشتہ سال موبائل فون اور موٹر سائیکل چھیننے کی مزاحمت پر 110، اور رواں سال میں 76، معصوم شہریوں کی جانیں لی جا چکی ہیں۔ ملک بھر میں ان کے اربوں روپے کے ڈمپرز بغیر ٹیکس اور کاغذات کے چل رہے ہیں، ان ڈمپرز نے صرف کراچی میں رواں سال 217، معصوم لوگوں کی جان لی ہے، ان لوگوں کی شناخت نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ قانون کی گرفت میں نہیں آپا تے ہیں۔ ،پاکستان کے بڑے شہروں کے چائے کے ہوٹل کی سر پر ستی بھی انہیں حاصل ہے، عوام الناس کو ملاوٹ والی نشی چائے پلا رہے ہیں، یہ ہوٹل دن رات کھلے رہنے کی وجہ سے جرائم پیشہ افراد کی مستقل بیٹھک بن گئی ہے۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق منشیات فروش ٹی ٹی پی کے ذریعے وادی تیراہ اور سرحدی علاقوں میں 12، ہزار ایکڑ زمین پر پوست کی کاشت کر رہے ہیں،یہ ہمارے اینٹی نارکوٹکس فورس اور فرنیٹر گروپز کے جوانوں کو شہید کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے ہیں، ان لوگوں نے ہمارے 582، فوجی جوان و افسران اور 356، بے گناہ شہریوں کو بھی شہید کر دیا ہے۔ افغان حکومت جھوٹا پروپیگینڈا کرتی ہے کہ “پاکستان نے امریکہ کو اپنی سر زمین افغانستان پر حملوں کے لیے دے رکھی ہے، اسے جواز بنا کر افغانستان اب پاکستان پر وقتاً فوقتاً حملے کر رہا ہے۔افغان حکومت یاد رکھے کہ پاک فوج کے ساتھ 25، کروڑ عوام سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔
اگر ہم منشیات سے پاک معاشرہ چاہتے ہیں تو جلد از جلد بقیہ 60، لاکھ افغانیوں کو 50، سال مہمان نوازی کے بعد اچھے طریقے سے رخصت کرنا ہوگا ، آپ دیکھیں گے کہ چند سالوں میں یقیناً وطنِ عزیز سے منشیات اور دیگر جرائم میں حیرت انگیز کمی واقع ہو جائے گی، ان کے جانے سے ہماری سلامتی محفوظ اور دنیا میں عزت کے مقام کے ساتھ ساتھ ہمارے لاکھوں معصوم لوگ منشیات کی عفریت سے بچ جائیں گے۔ ان شاءاللہ ۔

رفیع احمد گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: منشیات کی کی وجہ سے کے ساتھ رہے ہیں

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف