جیل سے رہائی کے بعد ڈکی بھائی کی اہلیہ کے ساتھ پہلی جھلک سامنے آگئی، مداح پریشان
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
پاکستان کے معروف یوٹیوبر اور وی لاگر ڈکی بھائی جیل سے ضمانت پر رہائی کے بعد پہلی مرتبہ میڈیا کے سامنے آئے تو اُن کی حالت دیکھ کر مداح پریشان ہوگئے۔
ڈکی بھائی تقریباً چار ماہ جیل میں گزارنے کے بعد ضمانت پر رہا ہوئے ہیں۔ وہ مبینہ جوئے کی ایپس کیس میں گرفتار تھے اور ان کی ضمانت کئی بار مسترد ہو چکی تھی۔
رہائی کے بعد ڈکی بھائی اپنی اہلیہ اروب جتوئی اور وکلا کے ہمراہ مجسٹریٹ کورٹ پہنچے جہاں بڑی تعداد میں میڈیا موجود تھا۔
رپورٹرز بار بار سوالات کرتے رہے لیکن ڈکی بھائی نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموشی سے آگے بڑھتے رہے۔ میڈیا کے کیمروں، موبائل فونز اور مائکس کی دھکم پیل کے دوران وہ واضح طور پر پریشان اور ذہنی دباؤ میں نظر آئے۔
سوشل میڈیا پر ویڈیوز سامنے آتے ہی مداحوں نے تشویش کا اظہار کیا۔
صارفین کا کہنا ہے کہ ڈکی بھائی ذہنی طور پر کمزور دکھائی دے رہے ہیں اور میڈیا کا رویہ ہراسانی کے مترادف تھا۔ کئی صارفین نے صحافیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مشکل وقت میں اُنہیں تنہا چھوڑ دیں۔
ڈکی بھائی اور ان کی اہلیہ اروب کی ایک ساتھ پہلی جھلک بھی سامنے آئی، جس پر مداحوں نے دونوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔