بچے کے مین ہول میں گرنے کی خبر چلنے پر انتظامیہ غائب، امدادی کام چندہ جمع کرکے کیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں کمسن بچے کے مین ہول میں گرنے کی خبر چلنے پر انتظامیہ پراسرار طور پر غائب ہو گئی جب کہ امدادی کام بھی چندہ جمع کرکے کیا گیا۔
گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب ڈیپارٹمنٹل اسٹور کے سامنے کھلے مین ہول میں گرنے والے کمسن بچے کا تاحال کوئی سراغ نہیں لگایا جا سکا جب کہ انتظامیہ میڈیا پر خبریں چلنے کے بعد پراسرار طور پر غائب ہوگئی تھی۔
چھیپا، ایدھی اور شہریوں نے نہ صرف اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کاموں میں حصہ لیا بلکہ چندہ جمع کر کے کھدائی کے لیے مشینری بھی منگوائی گئی۔ اس موقع پر موجود مشتعل افراد نے سڑک پر ٹائرجلا کر ٹریفک کو معطل کردیا۔
مشتعل افراد نے ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار اور میڈیا ہاؤسز کی گاڑیوں پر پتھراؤ کر کے شیشے تور دیے اور نمائندوں کو زد و کوب کیا۔ بچے کی والدہ اور دا دا نے بھی انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔
ڈوبنے والے بچے کی شناخت ابراہیم کے نام سے کی گئی ، جو شاہ فیصل نمبر 5 کا رہائشی اور ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہے ۔ ابرہیم کے دادا مودالحسن نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بولٹن مارکیٹ میں کپڑے کا کاروبار کرتے ہیں جب کہ ابرہیم کے والد کا چائے کی پتی کا کاروبار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کے وقت وہ اجتماع گاہ میں تھے، جب ان کے بیٹے نے ابراہیم کے نالے میں گرنے کی اطلاع دی ۔
انہوں نے مئیر کراچی ، وزیر اعلیٰ سندھ ، گورنر سندھ سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ وہ ان کے بچے کی تلاش میں ان کی مدد کریں کیونکہ بچے کی والدہ اور والد کا رو رو کر برا حال ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے میڈیا اور سوشل میڈیا پر ابراہیم کے مین ہول میں گر کر لاپتا ہونے کی خبریں نشر کی جا رہی ہیں، اس کے باوجود انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی ۔
انہوں نے کہا کہ میں شکر گزار اور دعا گو ہوں ان شہریوں ، چھیپا اور ایدھی سمیت دیگر ریسکیو اداروں کا جو ابراہیم کو ڈھونڈنے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت کام کررہے ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار موقع پر پہنچے تو مشتعل افراد نے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی اور ان کے خلاف شدید نعرے بازی کی، جس کے بعد وہ وہاں سے واپس چلے گئے تاہم انہوں نے ایکسپریس سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے واقعے کا ذمے دار مئیر کراچی کو قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے بچے ، خواتین ، بزرگ اور نوجوان کبھی ڈمپر اور ٹینکر کے نیچے کچلے جا رہے ہیں تو کبھی نالوں میں ڈوب کر اپنی جان گنوا رہے ہیں ۔ کراچی کے نوجوان بچے بچیوں کو امتحانات میں فیل کیا جا رہا ہے ، کراچی کے شہریوں کے لیے ملازمتوں کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں جب کہ سندھ حکومت عیش و عشرت کی زندگی گزار رہی ہے ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کے شہریوں میں لاوا ابل رہا ہے، جو کسی بھی وقت پھٹ جائے گا۔ میں کراچی انتظامیہ کو متنبہ کرتا ہوں کہ ڈریں اس وقت سے جب کراچی کے 10 لاکھ نوجوان شارع فیصل کو بلاک کر کے ان کے خلاف احتجاج شروع کریں۔ اگر ایسا ہوا تو یہاں کی حالت کشمیر سے زیادہ خراب ہوسکتی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ موقع پر چھیپا اور ایدھی کے رضا کار کام کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں ۔ اگر سارے کام چھیپا اور ایدھی نے کرنے ہیں تو واٹر کارپوریشن کی ذمے داری رمضان چھیپا یا فیصل ایدھی کے حوالے کر دیں تو شاید وہ ان سے اچھا کام کریں گے۔
دریں اثنا اتوار کی علی الصبح مشتعل افراد نے میڈیا ہاؤسز کی وینوں پر بھی پتھراؤ شروع کر دیا اور نمائندوں کوزود کوب بھی کیا۔
واضح رہے کمسن ابراہیم کے ڈوبنے کے بعد کراچی انتظامیہ موقع پر پہنچی، مشینری بھی پہنچ گئی اور کام شروع کر دیا ، تاہم میڈیا پر خبریں چلنے کے بعد اچانک کام روک دیا گیا اور مشینری بھی جائے حادثہ سے واپس منگوا لی گئی۔
حیران کن طور پر واقعے کے بعد سے صبح تک کوئی سرکاری افسر ، مقامی انتظامیہ ، میئر کراچی ، ڈی سی ایسٹ یا منتخب نمائندہ وہاں نہیں پہنچا جب کہ اہل علاقہ اور بچے کے لواحقین نے انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور غیر ذمہ داری پر شدید احتجاج کیا ۔ مشتعل افراد نے نیپا چورنگی کو بند کرکے ٹریفک معطل کردیا ۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ بی آر ٹی منصوبے کی بھاری مشینری بھی قریب موجود تھی لیکن کسی نے بروقت مدد فراہم کرنے کی کوشش نہیں کی۔ آخری اطلاع تک بچے کی تلاش کا کام جاری تھا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ مشتعل افراد نے مین ہول میں مشینری بھی ابراہیم کے کراچی کے کے بعد بچے کی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔