وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس، 27 نکات پر غور اور اہم فیصلے متوقع
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزراء، مشیران، خصوصی معاونین، چیف سیکریٹری اور متعلقہ افسران شریک ہوئے۔
تفصیلات کے مطابق ترجمان وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں شامل 27 نکات پر غور اور فیصلے ہوں گے۔ اسلام کوٹ تا چھوڑ اور بن قاسم سے پورٹ قاسم تک ریلوے لائن بچھانے کا کام کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ اکتوبر 2025ء میں سندھ حکومت اور وزارت ریلویز کے درمیان ایم او یو ہوا تھا۔ ایم او یو کے تحت وزارتِ ریلوے کو تھر سے کوئلے کی نقل و حمل کے لئے ریلوے لائن تعمیر کرنی ہے۔ پروجیکٹ کے تحت تھر کول سے چھوڑ تک 105 کلومیٹر ریلوے لائن بچھائی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ بن قاسم سے پورٹ قاسم تک 9 کلومیٹر ڈبل ٹریک ریلوے لائن بچھائی جائے گی۔ کوئلے کی انلوڈنگ کی سہولت پورٹ قاسم پر بنائی جائے گی۔ سندھ حکومت اور وزارتِ ریلویز کے درمیان برابر کی شراکت داری ہے۔
کابینہ نے سندھ سولر انرجی پروجیکٹ میں ہونے والے فراڈ کی انکوائری اینٹی کرپشن کو بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ تمام کٹس غریب گھرانوں کو مفت فراہم کی جائیں گی۔ کابینہ نے این آر ٹی سی انرجیز کو فی کٹ 219 امریکی ڈالر کے نرخ پر درآمد کا ٹھیکہ دیا ہے۔ ایک لاکھ کٹس کی ادائیگی کے لیے 5.
26 این جی اوز کی جانب سے دلچسپی ظاہر کی گئی ہے جبکہ پروپوزلز کا جائزہ جاری ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے منصوبے کی شفاف، بروقت اور سخت نگرانی کا حکم دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریلوے لائن
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔