، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب - فوٹو: اسکرین گریب/ جیو نیوز

کراچی میں نیپا چورنگی پر تین سالہ بچے کے مین ہول میں گرنے کے افسوسناک واقعہ پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ شہر کے بیچ ڈپارٹمنٹل اسٹور اور اسپتال کے قریب مین ہول کیسے کھلا تھا، مین ہول کتنے دن سے کھلا تھا، یا کھولا گیا تھا، رات گئے مشینری کیو نہیں دی گئی اس پر ایم ڈی واٹر کارپوریشن کو تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اگر عملے کی کوتاہی ثابت ہوئی تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی، جس جگہ بچہ گرا وہاں ایک برساتی نالے پر مین ہول بنا ہوا تھا، برساتی نالے پر ٹاؤن اور کے ایم سی دونوں کام کرتے۔

کراچی: مین ہول میں گرنے والا بچہ نہ مل سکا، تلاش دوبارہ شروع

سرکاری سطح پر ہیوی مشینری جائےحادثہ پر پہنچ گئی ہے جبکہ یونیورسٹی روڈ کو ٹریفک کے کھول دیا گیا ہے۔

میئر کراچی کا کہنا تھا کہ وہ یہ کہیں گے کہ جماعت اسلامی کا ٹاؤن چیئرمین ذمہ دار ہے تو لوگ ناراض ہوجائیں گے، منافقت کو ایکسپوز کرنے میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کل رات سے اس مسئلے پر سیاست کرنے کی کوشش کی گئی جو بڑی بدقسمتی ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوا رہا ہوں کہ معاملہ کیا ہوا ہے۔

میئر کراچی نے کہا کہ مین ہول میں گرنے والے بچے کی تلاش جاری ہے، 500 میٹر کے حصے کو کھود چکے ہیں، میں تمام انتظامیہ سے رابطے میں ہوں۔ اہلخانہ کی ہر ممکن مدد کریں گے۔

.

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: میئر کراچی مین ہول نے کہا

پڑھیں:

میئر کراچی کا گٹر کے ڈھکن و اسٹریٹ لائٹس کیلئے ہر یوسی کو 1 لاکھ ماہانہ دینے کا اعلان

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ اب دی جانے والی رقم صرف گٹر کے ڈھکنوں اور اسٹریٹ لائٹس کیلئے فراہم کی جائے گی، یہ رقم دسمبر سے ہر یونین کمیٹی کو جاری کی جائے گی، تاکہ مسائل کو مؤثر حل کیا جا سکے۔ اسلام ٹائمز شہر قائد میں مین ہول کورز اور اسٹریٹ لائٹس کی ٹوٹ پھوٹ کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے گٹر کے ڈھکن اور اسٹریٹ لائٹس کیلئے ہر یوسی کو 1 لاکھ روپے ماہانہ دینے کا اعلان کر دیا۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ نئے نظام کے تحت ہر یونین کمیٹی کو پہلے ہی 5 لاکھ روپے دیے جاتے تھے، دی جانے والی رقم کا بنیادی مقصد گلی محلوں کے مسائل کو حل کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی بہت سی یوسیز نے دی جانے والی اس رقم کا درست استعمال کیا ہے، متعدد علاقوں سے رقم ناکافی ہونے اور تنخواہوں میں خرچ ہونے کی شکایات موصول ہوئیں۔ میئر کراچی نے کہا کہ یہ معاملہ قیادت کے سامنے رکھا اور سندھ حکومت نے شیئر بڑھا کر 12 لاکھ روپے کیا ہے، یہ رقم روزمرہ مسائل کے حل کیلئے دی گئی، مگر وہ نتائج حاصل نہ ہو سکے جن کی توقع تھی۔ 


میئر کراچی نے کہا کہ نیپا سانحے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہر یونین کمیٹی کو ہر ماہ ایک لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ میئر کراچی نے مزید کہا کہ اب دی جانے والی رقم صرف گٹر کے ڈھکنوں اور اسٹریٹ لائٹس کیلئے فراہم کی جائے گی، یہ رقم دسمبر سے ہر یونین کمیٹی کو جاری کی جائے گی، تاکہ مسائل کو مؤثر حل کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ 30 نومبر کی رات کراچی کے نیپا فلائی اوور کے قریب گٹر میں گرنے والے ننھے بچے ابراہیم کی لاش 14 گھنٹوں کی تلاش کے بعد نالے سے نکالی گئی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • سیف الدین ایڈووکیٹ کا میئر کراچی کے مین ہول فنڈ اعلان پر شدید ردعمل
  • میئر کراچی کا گٹر کے ڈھکن و اسٹریٹ لائٹس کیلئے ہر یوسی کو 1 لاکھ ماہانہ دینے کا اعلان
  • کراچی: مین ہول میں گر کر بچہ جاں بحق، تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کرنے کی تجویز
  • میئر کراچی کا گٹر کے ڈھکن و اسٹریٹ لائٹس کیلئے ہر یو سی کو 1 لاکھ ماہانہ دینے کا اعلان
  • ہمارے بچے مر رہے ہیں کراچی کا میئر کہاں ہے؟
  • حادثات و گٹروں کے سانحات پر سیاست
  • کراچی میں کم عمر بچے کےبس چلانے کا واقعہ؛مالک کو 50ہزار روپے کا ای چالان بھیج دیا گیا
  • میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا شہر کی ترقی اور عوام کے لیے اقدامات پر زور
  • کام ہمارا ہوتا ہے اور تختی منعم ظفر کی لگا دیتے ہیں: مرتضیٰ وہاب
  • ایک ایک پائی کراچی کی ترقی پر خرچ کی جائے گی، مرتضی وہاب